<?xml version='1.0' encoding='UTF-8'?><?xml-stylesheet href="http://www.blogger.com/styles/atom.css" type="text/css"?><feed xmlns='http://www.w3.org/2005/Atom' xmlns:openSearch='http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/' xmlns:georss='http://www.georss.org/georss' xmlns:gd='http://schemas.google.com/g/2005' xmlns:thr='http://purl.org/syndication/thread/1.0'><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026</id><updated>2012-02-16T12:03:12.777+05:30</updated><category term='سیاست'/><category term='life of prophet'/><category term='عام معلومات'/><category term='اخلاقیات'/><category term='دین'/><category term='introduction'/><category term='indian recipe'/><category term='valentine day'/><category term='دہشت گردی'/><category term='quote'/><category term='اردو افسانہ'/><category term='gaza'/><category term='woman'/><category term='ماں'/><category term='طنز و مزاح'/><category term='iqbal'/><category term='general knowledge'/><category term='غزہ'/><category term='mother craft'/><category term='muslim society'/><category term='ہمارا معاشرہ'/><category term='ترئی کی چٹنی'/><category term='mother'/><category term='mother teresa'/><category term='اکبر الہ آبادی'/><category term='مدر ٹریسا'/><category term='گھریلو نسخے'/><category term='urdu poetry'/><category term='مزاح'/><category term='اردو'/><category term='women rights'/><category term='اقتباس'/><category term='استقبال'/><category term='افتتاحیہ'/><category term='سیرت نبوی'/><category term='humour'/><category term='sad poetry'/><category term='اردو شاعری'/><category term='اقبال'/><category term='terrorism'/><category term='urdu story'/><category term='urdu'/><category term='حیدرآبادی دہی کی کڑھی'/><category term='عورت'/><category term='شخصیات'/><category term='خوبانی کا میٹھا'/><category term='زن و شو'/><category term='حزنیہ شاعری'/><category term='مسلم معاشرہ'/><category term='کچن پکوان'/><category term='الکشن-2009'/><category term='akbar'/><category term='حقوقِ نسواں'/><title type='text'>تلاش میں ہے زندگی</title><subtitle type='html'>تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی :: وفا کی جس میں ہو بو، وہ کلی نہیں ملتی</subtitle><link rel='http://schemas.google.com/g/2005#feed' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/posts/default'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default?max-results=100'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/'/><link rel='hub' href='http://pubsubhubbub.appspot.com/'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><generator version='7.00' uri='http://www.blogger.com'>Blogger</generator><openSearch:totalResults>32</openSearch:totalResults><openSearch:startIndex>1</openSearch:startIndex><openSearch:itemsPerPage>100</openSearch:itemsPerPage><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-3615533041202818804</id><published>2011-03-03T20:14:00.003+05:30</published><updated>2011-03-04T02:35:54.808+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='کچن پکوان'/><title type='text'>مرغی چاول</title><content type='html'>&lt;div style="color: blue;"&gt;مرغی&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;چکن : 4 ٹکڑے کر لیں&lt;br /&gt;نمک: حسب ذائقہ&lt;br /&gt;ادرک لہسن پیسٹ: 1 بڑا چمچہ&lt;br /&gt;ہلدی پاؤڈر : 1/2 چمچہ &lt;br /&gt;لال مرچ پاؤڈر : حسب ذائقہ &lt;br /&gt;کالی مرچ: 2 چٹکی&lt;br /&gt;لیموں :  2  عدد رس نکال لیں&lt;br /&gt;مایونیز : 1 بڑا چمچہ&lt;br /&gt;چکن مسالہ : 1/2 چائے کا چمچہ&lt;br /&gt;گرم مسالہ پاؤڈر: حسب ذائقہ&lt;br /&gt;تیل: 1 بڑا چمچہ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="color: blue;"&gt;ترکیب&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;مرغ کو دھو کر ، لیموں کے رس میں نمک ،لال مرچ ، ادرک لہسن پیسٹ ، ہلدی پاؤڈر ، کالی مرچ پاؤڈر ، چکن مسالہ ، گرم مسالہ پاؤڈر اچھی طرح مکس کر کے پیسٹ بنا لیں پھر اس پیسٹ کو چکن پر لگائیں  ، اب چکن کو کسی بڑے برتن میں رکھیں اور اوپر سے میونیز اور تیل ڈال کر 5 منٹ تیزآنچ پر پھر دھیمی آنچ پر پکنے کے لئے چھوڑ دیں، جب گوشت ایک طرف سرخ ہوجائیں تو چمچ سے احتیاط کے ساتھ دوسری طرف پلٹا کر سرخ کر لیں۔مرغ تیار ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="color: blue;"&gt;چاول&lt;/div&gt;چاول: 1/2 کیلو&lt;br /&gt;ہری مرچ : 3 سے 4 عدد&lt;br /&gt;کاجو: 5 عدد&lt;br /&gt;بادام : 5 عدد&lt;br /&gt;چرونجی: ایک چھوٹا چمچہ&lt;br /&gt;نمک: حسب ذائقہ &lt;br /&gt;ہرا دھنیہ: تھوڑا سا&lt;br /&gt;گرم مسالہ : لونگ، الائچی ، دارچینی ، کباب چینی : حسب ضرورت&lt;br /&gt;پیاز :1 عدد (کاٹ لیں)&lt;br /&gt;لہسن: 1 ڈلی چھیل لیں &lt;br /&gt;تیل: 1 کپ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="color: blue;"&gt;ترکیب&lt;/div&gt;ہری مرچ، کاجو ، بادام ، چرونجی، نمک ، ہرا دھنیہ ، گرم مسالہ، لہسن اور پیاز مکسر میں تھوڑا پانی  ڈال کر پیسٹ بنا لیں ، اب کسی برتن میں تیل گرم کرکے اس پیسٹ کو اچھی طرح بھون لیں۔&lt;br /&gt;پھر چاول ابال کر پانی اور چاول کو  الگ کر لیں ، اب اس پیسٹ کو چاول میں اچھی طرح ملا کر چاول دم دیں۔&lt;br /&gt;چاول دم ہونے کے بعد سرونگ ڈش میں پہلے چاول نکال لیں ، پھر اوپر چکن رکھ کر چاہیں تو ڈش پر فوئل لگا کر 5 منٹ کے لئے اوون میں رکھ دیں پھر اس گرما گرم ڈش کو ٹماٹر کی کچی چٹنی کے ساتھ سرو کریں۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-3615533041202818804?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/3615533041202818804/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2011/03/murgi-chawal.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/3615533041202818804'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/3615533041202818804'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2011/03/murgi-chawal.html' title='مرغی چاول'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-6523942589582436868</id><published>2010-02-22T00:25:00.001+05:30</published><updated>2010-02-22T00:26:39.473+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='عام معلومات'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='mother craft'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='عورت'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='ہمارا معاشرہ'/><title type='text'>بچت اور کفایت شعاری : تربیت کا اہم پہلو</title><content type='html'>&lt;div style="color: red;"&gt;ہمارے ہاں لڑکیوں کی تربیت کھانا پکانے ،سلائی کڑھائی اور گھریلو کام کاج تک محدود ہوتی ہے انھیں خرچ کومنظّم انداز سے چلانے کا سبق بھی دینا چاہئے۔&lt;/div&gt;بچوں کی تربیت ماں کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے ۔ لڑکیوں کی تربیت میں ایک پہلو ایسا ہے جس پر ماں کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور یہ پہلو پیسے کا استعمال بچت اور اخرجات میں کفایت شعاری ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گھر کو چلانے میں عمومًا ان الفاظ کا زیادہ استعمال خاتون خانہ سے منسلک کیا جاتا ہے ۔ اس لئے ماں کو بچیوں کی تربیت میں اس پہلو کو ضرور مد نظررکھنا چاہئے ۔ مشرقی اور مغربی طرزمعاشرت اگر چہ الگ الگ ہے لیکن وہاں بھی یہ پہلو ضرور دیکھا جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں لڑکیوں کی تربیت کھانا پکانے ،سلائی کڑھائی اور گھریلو کام کاج تک محدود ہوتی ہے ۔ اگر گھریلو اخرجات میں کفایت شعاری کا پہلو نظرانداز کر دیا جاتا ہے حالانکہ لڑکی کوخرچ کو منظّم اندازسے چلانے کا سبق اگر شروع سے ہی پڑھا دیا جائے تو آئندہ گھر داری آسان ہو سکتی ہے ۔&lt;br /&gt;بڑھتی ہوئی ضروریات اور مہنگائی کے باعث ایشیائی ممالک میں بھی لڑکیوں میں ملازمت کا رجحان کافی زیادہ ہوچکا ہے تا ہم اکثر دیکھا گیا ہے کہ لڑکیاں اپنی ماہانہ آمدنی کا بڑا حصہ ملبوسات، جوتے اور دیگر اشیاء پر صرف کر ڈالتی ہیں اور پھر مہینے کے آخر میں والدین سے مذید جیب خرچ کا مطالبہ کرتی ہیں ۔ ان کی یہ عادت عملی زندگی میں آنے کے بعد بھی قائم رہتی ہے ۔&lt;br /&gt;بیشترمائیں مختلف محافل میں اپنی بیٹیوں کی اس فضول خرچی کا ذکر بڑے تکبرانہ انداز میں کرتی نظر آتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ ہماری بیٹیاں فلاں فلاں برانڈ کے علاوہ تو کچھ خریدتی ہی نہیں ۔ اس انداز سے وہ دوسروں کو متاثر کرنا چاہتی ہیں کہ گویا ان کا تعلق کسی بہت بڑےاور دولتمند گھرانے سے ہے حالانکہ یہ کوئی بڑائی نہیں بلکہ بگڑی ہوئی عادت ہے جو مستقبل میں مسائل کا موجب بن سکتی ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اگر آپ اپنی بچیوں میں کفایت شعاری اور بچت کی عادت پیدا کرنا چاہتی ہیں تو پہلے خود اس کا عملی نمونہ بنیں ۔&lt;br /&gt;زندگی کے ہر معاملےمیں فضول خرچی اور اس پر تکبر نا پسندیدہ افعال ہیں ۔ زندگی کے ہر شعبہ میں میانہ روی بہت سی الجھنوں اور پریشانیوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے ۔&lt;br /&gt;آج کل ہرخاتون مہنگائی کی شکایت کرتی نظر آتی ہیں ۔&lt;br /&gt;ذرا غور کیجئے تو کچھ قصورہمارے معاشرتی رجحان کا بھی ہے جسے ہم نے ایک دوسرے کی تقلید میں اپنا لیا ہے ۔ اکثر خواتین اس کوشش میں ہوتی ہیں کہ وہ گھر اور طرز زندگی میں اپنے حلقئہ احباب میں سب سے ممتاز ہوں ۔ اس منفی خواہش نے گرانی کا احساس زیادہ کر دیا ہے ۔ دکھاوے کے شوق میں بجٹ کا بیشترحصہ خرچ کر دیا جاتا ہے ۔ تبدیلی انسانی فطرت ہے ۔ خواتین چاہیں تو گھر میں موجود اشیاء کو بھی ذرا سے ردوبدل کے ذریعے خوبصورت نئی شکل دے سکتی ہیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ماں کو چاہئے کہ خریداری کے دوران بیٹیوں کو ساتھ رکھے اور ان سے رائے طلب کرے ۔&lt;br /&gt;اس طرح ابتدائی عمر سے ہی ان میں بھاؤ تاؤ اور چیزوں کے انتخاب کا حسن آجائیگا 11 سے 15 سال کی لڑکیوں کو آمدن و اخراجات کو متوازن رکھنے کی تربیت دینا شروع کر دینا چاہئے۔&lt;br /&gt;انھیں جیب خرچ کا استعمال اور بچت کا طریقہ بھی بتانا چاہئے ۔ ماہانہ آمدنی اور خرچ کے ساتھ ایک کالم بچت کا بھی ضرور بنائیں ۔ دیکھا گیا ہے کہ اکثرخواتین پس اندازکی ہوئی اس رقم کو کسی نہ کسی مد میں خرچ کر ڈالتی ہیں ۔ ایسا کرنے سے گریز کریں اور اس بچت کو جمع کریں ۔ ایسا ہی سبق اپنی بیٹیوں کو بھی دیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;***&lt;br /&gt;بشکریہ : &lt;span style="color: blue;"&gt;تسنیم امجد&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;روزنامہ &lt;u&gt;اردو نیوز&lt;/u&gt; ، سعودی عرب۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-6523942589582436868?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/6523942589582436868/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2010/02/nurture-of-savings.html#comment-form' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/6523942589582436868'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/6523942589582436868'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2010/02/nurture-of-savings.html' title='بچت اور کفایت شعاری : تربیت کا اہم پہلو'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-6336565698327367812</id><published>2010-02-11T16:16:00.002+05:30</published><updated>2010-02-11T16:18:15.146+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='طنز و مزاح'/><title type='text'>مصنف اور لیڈر</title><content type='html'>ایک بہت بڑا مصنف تھا اور ایک بہت بڑا لیڈر تھا ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مصنف اس لئے بڑا تھا کہ اس نے بہت ساری کتابیں لکھی تھیں ۔ اور زندگی کی بہت ساری حقیقتوں کو بے نقاب کیا تھا ۔ &lt;br /&gt;لیڈر اس لئے بڑا تھا کہ اس نے اپنی لیڈری چمکانے کے لئے بڑے بڑے بھاشن دئے تھے ۔ قوم کو جہاد کرنے کی ترغیب دی تھی ، جب لیڈر ترقی کر کے بڑا آدمی بن گیا اور اسکا "جھک مارنا" بھی "فرمانے" میں شامل ہونے لگا ۔ تب اس نے مصنف کو سوانح حیات لکھنے بلایا۔ مصنف غریب تھا ۔ قلم کی روٹی کھاتا تھا۔ ایک حقیر معاوضہ پر تیار ہوگیا۔&lt;br /&gt;بہت دن گزر گئے مصنف نہیں لوٹا ۔&lt;br /&gt;لیڈر کو بڑی تشویش ہوئی ۔ اس نے مصنف کو بلایا اور معلوم کیا :&lt;br /&gt;"کیوں بھئی لیکھک ! تم نے ہماری سوانح حیات نہیں لکھی ؟"&lt;br /&gt;" اسے مکمل ہی سمجھئے جناب بس ایک اہم بات لکھنی رہ گئی ۔ " مصنف نے جواب دیا ۔&lt;br /&gt;"کونسی اہم بات؟" لیڈر نے استعجابیہ انداز میں پوچھا ۔ &lt;br /&gt;مصنف خاموش رہا۔ لیڈر پھر بولا۔&lt;br /&gt;"کیا تمہیں ہمارے دئے ہوئے بھاشنوں کی تعداد معلوم نہیں "؟&lt;br /&gt;"معلوم ہے "&lt;br /&gt;" پھر ہم نے کتنی ہڑتالیں کروائیں ، یہ لکھنا بھول گئے کیا؟"&lt;br /&gt;"وہ بھی لکھ دیا ہے جناب ؟&lt;br /&gt;" ہم نے کتنی بار پولس والوں کو گالیاں بکیں ۔۔۔۔"&lt;br /&gt;" ہاں یہ بھی لکھ دیا حضور"&lt;br /&gt;" تو پھر ہماری سوانح حیات میں کون سی بات رہ گئی ہے؟ " لیڈر پریشان ہو اٹھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مصنف نے نہایت اطمینان سے جواب دیا ۔ &lt;br /&gt;" آپ کی تاریخ وفات!"&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;***&lt;br /&gt;افسانچہ از : &lt;span style="color: blue;"&gt;ایس فضیلت&lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-6336565698327367812?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/6336565698327367812/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2010/02/writer-and-leader.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/6336565698327367812'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/6336565698327367812'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2010/02/writer-and-leader.html' title='مصنف اور لیڈر'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-464202943172101524</id><published>2010-02-04T22:51:00.002+05:30</published><updated>2010-02-04T23:04:24.744+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='ترئی کی چٹنی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='کچن پکوان'/><title type='text'>ترئی کے چھلکوں کی چٹنی</title><content type='html'>آپ ترئی کے چھلکوں کا کیا کرتے ہیں ۔۔۔؟ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اکثر لوگ انہیں پھینک دیا کرتے ہیں لیکن ایک مرتبہ ہماری ایک پڑوسن نے بتایا کہ ترئی کے چھلکوں کو بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;ترکیب حاصل کرنے کے بعد جب میں نے اپنے گھر والوں کو یہ چٹنی بنا کر کھلائی تو، کوئی پہچان ہی نہیں پایا کہ یہ چٹنی ترئی کے چھلکوں سے بنائی گئی ہے۔ کھانے کے بعد جب انہیں معلوم ہوا کہ  یہ ترئی کے چھلکوں سے بنائی گئی ہے تو سب نے حیرت سے یہی کہا کہ :&lt;br /&gt;ترئی کے چھلکوں سے بھی فائدہ اٹھایا جاتا ہے؟&lt;br /&gt;میں نے کہا کہ : یہ تو میری بنگالی پڑوسن کی مہربانی ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بہرحال ، آج آب سب کے ساتھ اس چٹنی کے بنانے کا آسان طریقہ شیئر کر رہی ہوں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="color: blue;"&gt;اجزاء :&lt;/div&gt;ترئی کے چھلکے&lt;br /&gt;لہسن : جوئے 7 سے 8 عدد&lt;br /&gt;ہری مرچ : حسب ذائقہ &lt;br /&gt;ہرا دھنیہ : تھوڑا سا&lt;br /&gt;نمک : حسب ذائقہ &lt;br /&gt;سفید زیرہ : تھوڑا سا&lt;br /&gt;سوکھی لال مرچ : دوعدد آدھی آدھی کر لیں &lt;br /&gt;املی بکی ہوئی : تھوڑی سی دھو کر تھوڑی دیر کے لئے پانی میں بھگو دیں&lt;br /&gt;تیل : بگھار کے لئے &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="color: blue;"&gt;ترکیب : &lt;/div&gt;ترئی کے چھلکوں کو اچھی طرح دھونے کے بعد &lt;span style="color: purple;"&gt;پین فرائی&lt;/span&gt; میں فرائی کر لیں &lt;br /&gt;لہسن کو بھی ساتھ میں فرائی کریں پھر فرائی کئے ہوئے چھلکے ، لہسن ، نمک ، املی ، ہرا دھنیہ ، ہری مرچ ، مکسر میں ڈال کر باریک کر لیں اب اس مکسچر کو کسی برتن میں نکال کر سفید زیرے اور سوکھی ہوئی لال مرچ سے بگھار دیں ۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;لیجئے ترئی کے چھلکوں کی مزیدار چٹنی تیار ہے ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-464202943172101524?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/464202943172101524/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2010/02/kitchen-pakwaan-turai-ki-chatni.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/464202943172101524'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/464202943172101524'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2010/02/kitchen-pakwaan-turai-ki-chatni.html' title='ترئی کے چھلکوں کی چٹنی'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-5031027144338403181</id><published>2010-01-22T02:22:00.003+05:30</published><updated>2010-01-22T02:30:36.234+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='کچن پکوان'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='indian recipe'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='خوبانی کا میٹھا'/><title type='text'>خوبانی کا میٹھا</title><content type='html'>&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://1.bp.blogspot.com/_ymsmCCrBcDA/S1i9U1hD1QI/AAAAAAAAACM/1KG5QHOmNbQ/s1600-h/khubani-ka-meetha.jpg" imageanchor="1" style="clear: left; float: left; margin-bottom: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" src="http://1.bp.blogspot.com/_ymsmCCrBcDA/S1i9U1hD1QI/AAAAAAAAACM/1KG5QHOmNbQ/s320/khubani-ka-meetha.jpg" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;خوبانی : ایک کیلو&lt;br /&gt;شکر : ایک کیلو&lt;br /&gt;ونیلا ایسنس : 2 چائے کے چمچے&lt;br /&gt;فریش کریم : تھوڑی سی مقدار میں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;خوبانی کو دھو کر صاف کر لینے کے بعد کسی برتن میں چار یا پانچ گلاس پانی ڈال کر ایک گھنٹہ کے لئے بھگو دیں۔&lt;br /&gt;ایک گھنٹہ بعد اس کو اچھی طرح پکائیں اور جب خوبانی گل جائے تو اسے ٹھنڈا کر کے اس کے بیج الگ کر لیں۔ پھر اس بغیر بیج والی خوبانی کو اچھی طرح گھوٹ کر اس میں شکر ڈالیں اور 25 سے 30 منٹ تک دھیمی آنچ پر پکائیں۔ پھر اس میں ایسنس ملا کر 2 منٹ مزید پکائیں۔&lt;br /&gt;اس کے بعد چولہا بند کر دیں اور خوبانی کے میٹھے کو کسی باؤل میں نکال کر ٹھنڈا ہونے کے لئے فریج میں رکھ دیں۔&lt;br /&gt;جب ٹھنڈا ہو جائے تو سرو کرنے سے پہلے فریش کریم اوپر ڈال دیں۔&lt;br /&gt;چاہیں تو فریش کریم کے بجائے آئس کریم بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-5031027144338403181?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/5031027144338403181/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2010/01/khubani-ka-meetha.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/5031027144338403181'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/5031027144338403181'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2010/01/khubani-ka-meetha.html' title='خوبانی کا میٹھا'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><media:thumbnail xmlns:media='http://search.yahoo.com/mrss/' url='http://1.bp.blogspot.com/_ymsmCCrBcDA/S1i9U1hD1QI/AAAAAAAAACM/1KG5QHOmNbQ/s72-c/khubani-ka-meetha.jpg' height='72' width='72'/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-5314743395025858771</id><published>2009-12-24T03:57:00.001+05:30</published><updated>2009-12-24T03:59:33.793+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='گھریلو نسخے'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='عام معلومات'/><title type='text'>سردی زکام کے گھریلو نسخے</title><content type='html'>&lt;span style="color: blue;"&gt;نزلے اور زکام کے لئے بڑے بوڑھوں کے آزمودہ نسخے اور قیمتی گھریلو تدابیر ۔۔۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;موسم جب بھی کروٹ لیتا ہے نزلہ ، زکام اور فلو کی تکالیف گھیر لیتی ہیں۔ چھنکوں کے شروع ہوتے ہی ناک بہنے لگتی ہے گلے میں خراش ، ورم اور سرمیں درد کی شکایت ،جسم بخار سے تپنے اور پھوڑے کی طرح دکھنے لگتا ہے ۔&lt;br /&gt;کہنے کو تو کئی دوائیں علاج کے لئے موجود ہیں لیکن ان امراض سے صحیح معنوں میں نجات اور صحت کی بحالی آج بھی پرانے علاج اور پرانی تدابیر سے ہی ہوتی ہیں ۔&lt;br /&gt;نزلے زکام کے سلسلے میں پرانے علاج اور شفائی تدابیر کی افادیت مسلمہ ہے جن سے آج بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ۔&lt;br /&gt;چند نسخے میں یہاں شیئر کر رہی ہوں آپ کے پاس بھی کوئی قیمتی گھریلو نسخے ہوں تو آپ بھی ضرور شیئر کریں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: blue;"&gt;پانی اور بھاپ کا استعمال ۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;پانی حیات بخش ہی نہیں شفا بخش بھی ہوتا ہے نزلے کی صورت میں سب سے زیادہ ناک اوراسکی اندرونی چھلیاں متاثر ہوتیں ہیں ۔&lt;br /&gt;وائرس سے نجات حاصل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جھلیوں سے خارج ہونے والی رطوبت انھیں بہا کر لے جائے ۔&lt;br /&gt;اس عمل میں وضو کا عمل بہت معاون ثابت ہوتا ہے ۔ ناک میں صاف ستھرا پانی چھڑھا نے سے اندرونی چھلیاں اچھی طرح دھل جاتی ہیں ۔اگر پانی نیم گرم اور نمکین ہوتو اسے ذرا اندر چڑھا کر بند ناک آسانی سے کھولی جا سکتی ہے ۔ نمک کی وجہ سے ناک میں نہ صرف ورم دور ہوتا ہے بلکہ وائرس کی خاصی تعداد بھی دھل کر خارج ہوتی ہے جس سے بڑا آرام ملتا ہے اور مرض کی شدت میں کمی آجاتی ہے ۔&lt;br /&gt;پانی کی بھاپ میں سانس لینے سے ناک سے حلق تک کا اندرونی حصہ نزلے کی رطوبت سے صاف ہوجاتا ہے ۔ اور ناک کی بندش سے ہونے والی گھٹن اور بے چینی دور ہوتی ہے ۔ یہ عمل بہت آسان ہے ، کسی صاف ستھری پتیلی میں تین چوتھائی پانی بھر کر اسے ابالیں اور اسے ا حتیاط سے کسی میز وغیرہ پر رکھ کر سر کے اوپر صاف کپڑا یا تولیہ لپیٹ کر اٹھتی بھاپ کی طرف چہرہ جھکا کر اس میں گہرے سانس لیتے رہیں ۔&lt;br /&gt;یہ ضروری ہے کہ چہرہ بھاپ سے جھلسنے نہ پائے ۔ اسی پانی میں اگریوکلپٹس آئل کی بھی چند بوندے شامل کر لی جائیں توناک کھلنے اور وائرس کا بہ آسانی نکلنے کا عمل اور بھی موثر ہو جاتا ہے ۔ یوکلپٹس کا درخت جس کو عرف عام میں سفیدا بھی کہتے ہیں ، ہر جگہ موجود ہے اس کے تازہ پتوں سے بھی یہ کام لیا جاسکتا ہے ۔ کھولتے پانی میں اس کے مٹھی بھر پتے شامل کر لیں ۔ آپ ہمدرد بام کی ایک دو بوندوں سے بھی یہ کام لیں سکتے ہیں ۔ اس عمل سے ناک کھلنے کے علاوہ گلے کی خراش اور کھانسی کو بھی آرام ہوتا ہے اور نزلے کے حملے کا مقابلہ کرنے میں  آسانی ہوجاتی ہے ۔ یہ عمل پانچ سے دس منٹ تک کرنا چاہیئے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: blue;"&gt;شہد اور لیموں کا استعمال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;جو لوگ چائے پیتے ہیں انھیں نزلے کے دوران بغیر دودھ کی چائے میں شکر کی جگہ شہد اور لیمو کا رس شامل کر کے پینا چاہیئے ۔ چائے کے علاوہ سادہ گرم پانی میں ایک چائے کا چمچ شہد اور تازہ لیمو کا رس شامل کر کے چسکیاں لیکر پینے سے چھیلے ہوئے گلے کو بہت آرام پہنچتا ہے ۔ جی چاہے تو شہد میں لیمو کے چند خطرے شامل کرکے بھی پیا جا سکتا ہے ۔ شہد میں جراثیم کشی کی صلاحیت ہوتی ہے اور لیمو میں شامل حیاتین ج (وٹامن سی ) جسم کی قوت مدافعت کو مستحکم کر تا ہے ۔ اس مرکب کو دھیرے دھیرے نگلنے سے منہ میں لعاب خوب بنتا ہے اور گلے کو آرام ملتا ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: blue;"&gt;دارچینی : جراثیم کی قاتل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;بخار دور کرنے والی اور جراثیم کشی کی صلاحیت رکھنے والی دارچینی ہزاروں سال سے استعمال ہو رہی ہے ۔ مشرق کے گرم آب و ہوا والے ملکوں میں پیدا ہونے والی دارچینی مغرب کے سرد ملکوں میں کبھی سونے کے مول بکتی تھی ، لکین اس کی آج بھی بڑی اہمیت ہے ، کھانے پینے کے مختلف اشیاء میں استعمال کے علاوہ اسے بخار اور ورم دور کرنے کے لئے بہت موثر قرار دیا جاتا ہے&lt;br /&gt;ڈاکٹر جیمز اے  ڈیوک کے مطابق دارچینی کو اسپرین کے برابر تو قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن یہ درد دور کرنے کی صلاحیت ضرور رکھتی ہے ۔ بر صغیرمیں سر میں درد اور جکڑن کے لئے پانی میں پیس کر اس کا نیم گرم لیپ کثرت سے استعمال ہوتا ہے ۔ اس کے تیل میں جراثیم ہلاک کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اس لئے حلق میں لگائے جانے والے تھروٹ پینٹ میں بھی یہ تیل شامل کیا جاتا ہے ۔&lt;br /&gt;نزلے کے لئے اس کی چائے بہت موثر ثابت ہوتی ہے ۔ اس کا سفوف چائے کے ایک چمچ کے برابرکھولتے پانی میں 20 منٹ تک ڈھک کر دم دینے کے بعد اس میں شہد بقدرے ذائقہ ملا کر پینا چاہیئے ۔ دن میں اسکی ایک سے تین پیالیاں پی جا سکتی ہیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: blue;"&gt;نزلے کا دشمن لہسن ۔۔۔۔۔۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;برصغیر میں لہسن کی چٹنی کا استعمال ایک نہایت موثر غذائی علاج سمجھا جا سکتا ہے ۔ بڑی بوڑھیاں گلے میں دکھن اور سوجھے ہوئے غدود کے لئے باسی یا خشک روٹی کے ایک نوالے کے ساتھ لہسن کے ایک دو جوئے سبز یا سرخ مرچ زور نمک کے ساتھ خوب چبا کر کھلایا کرتی تھیں اس سے بلغم خوب خارج ہوتا ہے اور گلے اور غدودوں کا ورم کم ہو جاتا ہے ۔&lt;br /&gt;لہسن امریکہ اور یورپ میں دانت کے درد کے علاوہ طاعون ( پلیگ ) اور جزام کے لئے مفید سمجھا جاتا تھا۔ وہ نزلے زکام اور کھانسی  کے لئےلہسن کو پیس کر شہید میں ملا کر کھلایا کرتے تھے ۔ آج سائنس دان بھی لہسن کی اس صلاحیت کے گیت گا رہے ہیں ۔ لہسن کی ایک کلی میں سینکڑوں موثر جز ہوتے ہیں جن میں گندھک کے مرکبات اور اس کا خاص جوہرایلی سین بھی شامل ہوتا ہے یہی اس کی مخصوس بو کا سبب ہے ۔&lt;br /&gt;موثر قدرتی ضد حیوی اور دافع جراثیم ہونے کی وجہ سے فلو میں روزآنہ لہسن کی چار سے آٹھ کلیاں کچی کھانا بہت مفید ہوتا ہے ۔ اگر یہ پیٹ کو موقف نہ آئے تو ہلکا بھون کر یا پنیر میں ملا کر کھانا چاہئیے ۔ لیسن کو کھانے سے پہلے باریک کتر کر دس منٹ چھوڑدینے سے اس میں دوائی خواص بڑھ جاتے ہیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: blue;"&gt;ادرک ، تلسی اور شہد کی چائے ۔۔۔۔۔۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;تازہ ادرک کچل کراس کا ایک چائے کا چمچ رس ایک پیالی گرم پانی میں شہد سے میٹھا کر کے پینے سے بلغمی کھا نسی ، سینے کی جکڑن اور سینے کو بہت آرام ملتا ہے ۔ بلغم خارج ہوتا ہے اور پسینہ آکربخار دور ہوجاتا ہے ۔ اس میں تلسی کے تازہ پتوں کا رس ایک چائے کا چمچ ملانے سے یہ اور بھی مفید ہو جاتا ہے ۔ تلسی کے خشک پتے بھی استعمال ہو سکتے ہیں ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-5314743395025858771?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/5314743395025858771/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/12/sardi-zukaam-ke-gharelu-nuskhe.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/5314743395025858771'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/5314743395025858771'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/12/sardi-zukaam-ke-gharelu-nuskhe.html' title='سردی زکام کے گھریلو نسخے'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-2794314117685894057</id><published>2009-12-16T10:57:00.001+05:30</published><updated>2009-12-16T10:59:52.445+05:30</updated><title type='text'>میرے لئے میرا ہندوستان اچھا ہے ۔</title><content type='html'>زبان میٹھی ہے میرا بیان اچھا ہے&lt;br /&gt;بس اس لئے میرا خاندان اچھا ہے&lt;br /&gt;چھتیں ٹپکتی ہیں لیکن خلوص تو ہے یہاں&lt;br /&gt;ترےمحل سے یہ کچا مکان اچھا ہے&lt;br /&gt;یہ جانور ہے جو غیبت کبھی نہیں کرتا&lt;br /&gt;زبان والوں سے یہ بے زبان اچھا ہے&lt;br /&gt;محبتوں سے بھرے ایک دل میں رہتے ہیں&lt;br /&gt;زمانے بھر سے ہمارا مکان اچھا ہے&lt;br /&gt;حکومتوں سے نہیں چا ہئے ہمیں اعزاز&lt;br /&gt;جو مسجدوں سے ملا وہ نشان اچھا ہے&lt;br /&gt;ابھی ہے باقی بزرگوں کا احترام یہاں&lt;br /&gt;مرے لئے مرا ہندوستان اچھا ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(51, 102, 255);"&gt;جوہر کانپوری &lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-2794314117685894057?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/2794314117685894057/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/12/blog-post_16.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/2794314117685894057'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/2794314117685894057'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/12/blog-post_16.html' title='میرے لئے میرا ہندوستان اچھا ہے ۔'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-1014926346518004988</id><published>2009-12-03T01:55:00.002+05:30</published><updated>2009-12-03T01:58:22.344+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اخلاقیات'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='زن و شو'/><title type='text'>شوہر اور بیوی کا تعلق</title><content type='html'>شوہر اور بیوی کا تعلق بھی کس قدر عجیب تعلق ہوتا ہے -- کہ ہزار نفرتوں اور ناچاقیوں کے باوجود شوہر اور بیوی کا رشتہ اپنی جگہ ویسے کا ویسا رہتا ہے۔ کس قدر سنگین لڑائی ہو چکی ہو ، کیسی بھی قسمیں کھائی جا چکی ہوں، ایک دوسرے کی صورت نہ دیکھنے کا عہد کر لیا ہو، تو پھر بھی اندر ہی اندر ایک انجانا سا ، غیر محسوس سا، مگر مضبوط سا تعلق اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ کہیں بھی چلے جاؤ، شمع کی مانند یہ تعلق روشن رہتا ہے۔ منہ موڑ لو تو بھی روشنی کی لکیر کہیں نہ کہیں سے در آتی ہے۔ بے نیاز بننے کی کوشش کرو تو بھی بنا نہیں جاتا۔ اس تعلق کو بوجھ سمجھ کر توڑنا چاہو ، تو ، کبھی بچے راہ میں آ جاتے ہیں تو کبھی وہ میٹھا میٹھا درد جو ایک دوسرے کے نام سے دل کے نہاں خانے میں ہوتا رہتا ہے۔!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: left; color: rgb(102, 0, 204);"&gt;&lt;u&gt;بشریٰ رحمٰن&lt;/u&gt; کے افسانے سے اقتباس&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-1014926346518004988?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/1014926346518004988/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/12/blog-post.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/1014926346518004988'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/1014926346518004988'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/12/blog-post.html' title='شوہر اور بیوی کا تعلق'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-7658914274940529326</id><published>2009-07-19T04:03:00.002+05:30</published><updated>2009-07-19T04:06:04.771+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='ہمارا معاشرہ'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='muslim society'/><title type='text'>شوہر کی اطاعت ناگوار کیوں ؟</title><content type='html'>اکثر لوگوں کو یہ کہتے سنا جاتا ہے کہ ۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;بدلتے وقت کے ساتھ لوگوں کی سوچ بدلتی ہے ، طور طریقے بھی بدلتے ہیں اور نئے زمانے میں نئی سوچ کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ اب پرانے خیالات نہیں چلیں گے۔&lt;br /&gt;وغیرہ وغیرہ۔&lt;br /&gt;جہاں تک دنیاوی معاملات کا تعلق ہے ، وہاں تو یہ بات کسی حد تک ٹھیک ہے۔ مثلاً کسی کو خط لکھنے کے بجائے اب ای میل یا ایس ایم ایس سے کام چلایا جا سکتا ہے۔ یا ایسی ہی بیشمار سہولتیں ہیں جن کا تعلق دنیا کی آسانی سے ہے۔ یہاں ہم پہلے طریقے کے بجائے نئے طریقے پر عمل کرنے لگے ہیں۔&lt;br /&gt;مگر کیا عقائد کے معاملے میں بھی ہم یہی سوچ اپنا سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;یقیناً نہیں ، ہرگز نہیں !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس کے باوجود آج کل ہر طرف یہی آواز کیوں آتی ہے کہ&lt;br /&gt;یہ تو پرانے زمانے میں ہوتا تھا ، ایسی باتیں آج کل نہیں چل سکتیں !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک خاتون سے ملاقات کے دوران جو گفتگو ہوئی اس میں انہوں نے مختلف خیالات کا اظہار کیا جن کو سن کر ان کی ناانصافی پر حیران ہی ہوا جا سکتا تھا۔ وہ محترمہ میاں بیوی کے معاملات پر بہت پرجوش انداز میں فرمانے لگیں:&lt;br /&gt;یہ کوئی پرانا زمانہ نہیں کہ عورت ، شوہر کی ہر بات مانے اور ہر بات میں اس کی اطاعت کرے۔ یہ سب پرانے وقتوں میں ہوتا تھا ، آج کی عورت یہ سب نہیں کر سکتی (معاذ اللہ)۔&lt;br /&gt;تھوڑی ہی دیر میں گفتگو کا رخ بدلا اور بات عورت کے حقوق کی ہونے لگی تو وہی خاتون فرمانے لگیں :&lt;br /&gt;اگر عورت شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرے تو یہ اس کا حق ہے جو اسلام نے اس کو دیا ہے اور مرد کے لئے اسے پورا کرنا ضروری ہے !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہم نے کہا :&lt;br /&gt;واہ واہ ! بہت خوب ! یہ کہاں کا اور کیسا انصاف ہے ؟&lt;br /&gt;بھلا دین پر چلنے کا یہ کیسا طریقہ ہے کہ جو بات پسند ہے یا اپنے فائدے کی ہے تو اس کو قبول کر لو اور جو ناپسند ہے اس کو (نعوذ باللہ) پرانے وقتوں کی باتیں کہہ کر ٹال دو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شوہر کی اطاعت کا حکم تو اللہ کریم اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا ہے۔&lt;br /&gt;اور اسی رب کریم نے ان تعلقات کے متعلق تعلیم بھی عطا فرما دی ہے۔&lt;br /&gt;اور پھر ہم عورتوں پر مرد کو یہ فضیلت اللہ کریم نے ہی دی ہے۔&lt;br /&gt;اور اللہ تعالیٰ ہی کے کلام پاک میں نیک عورتیں ، اطاعت کرنے والیاں ، اپنی حفاظت کرنے والیاں ، فرمایا گیا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہم ان باتوں کو کسی طور بھی کوئی بہانہ بنا کر یا نام دے کر نظرانداز نہیں کر سکتے۔&lt;br /&gt;ہم عورتوں کو مرد کے نام کی چھت کے نیچے بحفاظت رہنا تو اچھا لگتا ہے ، اس کے ہاتھوں کی محنت سے کمایا گیا رزق حلال بھی اچھا لگتا ہے ، اس کی کمائی سے اپنا حصہ لینا بھی بہت بھاتا ہے ۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;تو پھر بدلے میں اس کی اطاعت کرنی بری کیوں لگتی ہے؟&lt;br /&gt;ہمارا طرزِ عمل صرف اپنے حقوق مانگنے کی حد تک نہیں بلکہ حقوق کی ادائیگی کے لئے بھی ہونا چاہئے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک مرتبہ سوال کیا گیا :&lt;br /&gt;سب عورتوں سے بہتر کون سی عورت ہے؟&lt;br /&gt;آپ نے جواباً جو ارشاد عالی فرمایا ، اس کا مفہوم کچھ یوں ہے :&lt;br /&gt;وہ عورت سب سے اچھی ہے کہ جب خاوند اس کی طرف دیکھے تو وہ خاوند کو خوش کر دے اور جب وہ اس کو کوئی حکم دے تو مان لے۔ اس کی نافرمانی نہ کرے اور نہ اس کے مال سے ایسا تصرف کرے جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔&lt;br /&gt;(ابوداؤد ، نسائی)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ ہے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم مبارکہ جس میں واضح طور پر شوہر کا حکم ماننے کا ذکر موجود ہے اور یہی عالی تعلیمات ہمیں اپنی نئی نسل کو دینی ہیں !&lt;br /&gt;اس کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ ۔۔۔۔&lt;br /&gt;ہم دین حنیف کے متعلق اپنی منافقانہ سوچوں سے نجات حاصل کریں ورنہ اپنے انہی خیالات کو ہم نئی نسل میں منتقل کر دیں گے۔&lt;br /&gt;یاد رکھئے کہ ایسی سوچوں کی حامل خواتین اپنے گھر والوں کو ایک پرسکون اور کامیاب گھر نہیں دے سکتیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شوہر کی اطاعت اس کی محبت میں نہیں بلکہ اللہ کریم کی محبت میں اگر کی جائے تو اللہ کریم ، ان شاءاللہ ، اپنی رحمت سے ہر اس کام میں برکت اور آسانی عطا فرما دے گا جو بندہ اس خالق حقیقی کی محبت میں سرانجام دے گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ۔۔۔ کسی کی اطاعت کے لئے اپنا دل مارنا پڑتا ہے اور پھر عورت تو ویسے بھی قربانی کا دوسرا نام ہے۔ اپنی ضد ، انا اور خواہشات کا گلا گھونٹ کر ہی وہ مقام حاصل کیا جا سکتا ہے جس سے دنیا میں بھی سرخ روئی ہو اور آخرت میں بھی۔ نہ کہ دین کے احکامات کو ، معاذ اللہ ، " اگلے وقتوں کی باتیں " کہہ کر۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہمارے معاشرے کا مضبوط خاندانی نظام انہی مطیع و فرمانبردار عورتوں کا مرہون منت ہے۔&lt;br /&gt;مگر مردوں کو بھی یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ کسی کے آگے سر تسلیم خم کرنے یا اس کی اطاعت کرنے کے لئے اپنا نفس ، اپنی انا ختم کرنا پڑتی ہے جو آسان کام نہیں۔ یہ عورت کا امتحان ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;اس لئے اگر آپ کے پاس فرمانبردار اور مطیع بیوی ہے تو اس کی قدر کیجئے کیونکہ یہ بھی اللہ کریم کی "نعمت" ہے جس سے آپ فائدہ اٹھا رہے ہیں !!!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بشکریہ :&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(0, 153, 0);"&gt;اردو نیوز ، جمعہ ایڈیشن۔ 17 جولائی 09&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(0, 153, 0);"&gt;مضمون : اسماء فرید (بحرین)۔&lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-7658914274940529326?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/7658914274940529326/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/07/shauhar-ki-ittayet-nagwaar-kion.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/7658914274940529326'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/7658914274940529326'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/07/shauhar-ki-ittayet-nagwaar-kion.html' title='شوہر کی اطاعت ناگوار کیوں ؟'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-4794665690459986613</id><published>2009-04-17T18:48:00.001+05:30</published><updated>2009-04-17T18:51:04.130+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='الکشن-2009'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سیاست'/><title type='text'>ہندوستانی الکشن 2009</title><content type='html'>دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت &lt;span style="color: rgb(51, 51, 255);"&gt;ہندوستان&lt;/span&gt; کا پارلیمانی الکشن (2009) پانچ مرحلوں میں کل 16-اپریل سے شروع ہو چکا ہے۔&lt;br /&gt;ہندوستان کے 543 پارلیمانی حلقوں کے لئے رائے دہی کا انعقاد ہو رہا ہے جو 16-اپریل ، 22-23 اپریل ، 30-اپریل ، 7-مئی اور 13-مئی کو منعقد ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس کے ساتھ ساتھ تین ریاستوں کے اسمبلی الکشن بھی ہو رہے ہیں جن میں آندھرا پردیش (حیدرآباد) ، اوڑیسہ (بھوبانیشور) ، سکم (گینگٹوک) شامل ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پندرہویں لوک سبھا کے لئے تین اتحادی جماعتوں میں مقابلہ ہے :&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(204, 0, 0);"&gt;بی۔جےـبی اتحاد&lt;/span&gt; (شیو سینا ، جنتا دل ، لوک دل ، اکالی دل وغیرہ)&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(204, 0, 0);"&gt;کانگریس اتحاد&lt;/span&gt; (ڈی۔ایم۔کے ، این۔سی۔پی ، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، مجلس، مسلم لیگ ، ترنمول کانگریس)&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(204, 0, 0);"&gt;تیسرا محاذ&lt;/span&gt; (بیجو جنتا دل ، دونوں کمیونسٹ پارٹیاں، تلگودیشم، تلنگانہ راشٹریہ سمیتی، سیکولر جنتا دل، انا۔ڈی۔ایم۔کے وغیرہ)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کل 16-اپریل کو لوک سبھا کے 124 حلقوں کے لئے ووٹنگ ہو چکی اور مختلف نیوز ایجنسیوں کے مطابق اندازاً 60 فیصد رائے دہندوں نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا۔&lt;br /&gt;1715 امیدواروں کی قسمت الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں بند ہو چکی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نتائج کے لئے 16-مئی کا انتظار کرنا ہوگا۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-4794665690459986613?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/4794665690459986613/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/04/2009.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/4794665690459986613'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/4794665690459986613'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/04/2009.html' title='ہندوستانی الکشن 2009'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-8972319133098914084</id><published>2009-03-19T04:03:00.000+05:30</published><updated>2009-03-19T04:05:36.624+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='general knowledge'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='urdu'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='عام معلومات'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اردو'/><title type='text'>اردو ہندی ڈکشنری : انجمن ترقی اردو ہند</title><content type='html'>انجمن ترقی اردو ہند ، نئی دہلی نے 2005ء میں اردو-ہندی لغت کا 24 واں ایڈیشن &lt;u&gt;خلیق انجم&lt;/u&gt; کی نگرانی میں شائع کیا تھا۔ اس لغت کے دیباچے سے کچھ پیرا گراف پیش خدمت ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;***&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;انجمن کی مجلس عاملہ نے 1949ء میں اردو ہندی ڈکشنری کی ترتیب و تدوین کے لئے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ اردو کے دس ہزار ایسے الفاظ جمع کئے جائیں جن کے ہندی مترادفات اردو داں‌ لوگوں کے لئے مفید ہوں اور جن کی عام طور پر تعلیمی ، اخباری اور سرکاری کاموں کے لئے ضرورت ہوتی ہے۔&lt;br /&gt;1950ء میں یہ کام شروع ہوا اور 1955ء میں اس کی تکمیل ہوئی۔ دس ہزار سے زیادہ الفاظ جمع ہوئے۔&lt;br /&gt;ہندی اور اردو لفظ کے تلفظ کو ادا کرنے کے لئے رومن رسم الخط کا قدیم طریقہ کار استعمال کیا گیا تاکہ عام شائقین کو تلفظ کے سمجھنے میں‌ آسانی ہو۔&lt;br /&gt;- اردو کے الفاظ کا انتخاب زیادہ تر فیروز اللغات اور فرہنگ آصفیہ سے کیا گیا&lt;br /&gt;- ہندی متردفات کا انتخاب کرنے میں ہندی کی حسب ذیل ڈکشنریوں سے زیادہ مدد لی گئی :&lt;br /&gt;&lt;span style="color:blue;"&gt;1۔ ہندی شبد ساگر (ناگری پرچانی سبھا)&lt;br /&gt;2۔ برہت ہندی شبد کوش (گیان منڈل بنارس)&lt;br /&gt;3۔ آدرش ہندی شبد کوش (پنڈت رام چندر پاٹھک)&lt;br /&gt;4۔ شبد ارتھ پارجات (پنڈت دوارکا پرشاد)&lt;br /&gt;5۔ بھاشا شبد کوش (ڈاکٹر رام چندر شکل)&lt;br /&gt;6۔ آنگل بھارتی مہا کوش (ڈاکٹر رگھو ویر)&lt;br /&gt;7۔ امر کوش (سنسکرت)&lt;br /&gt;8۔ ہندی اردو ، اردو ہندی لغت (مولوی امام الدین)&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مترادفات کے انتخاب میں اس امر کی کوشش کی گئی ہے کہ ہندی کے وہی الفاظ چنے جائیں جو عموماً سرکاری دفتروں اور ہندی اخباروں میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس بات کا خیال رکھا گیا کہ سنسکرت کے موٹے موٹے اور غیر مانوس الفاظ کو اس فرہنگ میں نمایاں جگہ نہ دی جائے مگر ہندی اردو کے وہ سب لفظ لے لئے جائیں جو ہماری روز مرہ کی بولی کا جزو ہیں۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-8972319133098914084?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/8972319133098914084/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/03/blog-post_19.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/8972319133098914084'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/8972319133098914084'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/03/blog-post_19.html' title='اردو ہندی ڈکشنری : انجمن ترقی اردو ہند'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-38751706621092781</id><published>2009-03-05T03:55:00.002+05:30</published><updated>2009-03-05T03:59:12.858+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اخلاقیات'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='ہمارا معاشرہ'/><title type='text'>کیا غیر مسلموں کے اخلاق کی کوئی بنیاد ہے ۔۔۔۔؟!</title><content type='html'>بہت سے منکرینِ خدا یا منکرینِ آخرت ایسے ہیں جن کا فلسفۂ اخلاق اور دستورِ عمل سراسر مادّہ پرستی اور دہریت پر مبنی ہے۔&lt;br /&gt;اس کے باوجود ایسے لوگ اچھی خاصی پاک سیرت رکھتے ہیں اور ان سے ظلم و فساد اور فسق و فجور کا ظہور بھی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے معاملات میں نیک اور خلقِ خدا کے خدمت گزار ہوتے ہیں۔&lt;br /&gt;لیکن ، کیا ان اخلاقی خوبیوں اور عملی نیکیوں کی کوئی بنیاد یا کوئی محرک ہے؟&lt;br /&gt;تمام مادہ پرستانہ لادینی فلسفوں اور نظامات کی فکر کی اگر جانچ پڑتال کر لی جائے تو ان کی کوئی بنیاد یا ان کا کوئی محرک قطعاً نہیں مل سکے گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کسی منطق سے بھی یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ ان لادینی فلسفوں میں ۔۔۔۔&lt;br /&gt;راست بازی ، امانت ، دیانت ، وفائے عہد ، عدل ، رحم ، فیاضی ، ایثار ، ہمدردی ، ضبطِ نفس ، عفت ، حق شناسی اور ادائے حقوق کے لئے محرکات موجود ہیں!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;خدا اور آخرت کو نظرانداز کر دینے کے بعد اخلاق کے لئے اگر کوئی قابلِ عمل نظام بن سکتا ہے تو وہ صرف افادیت (utilitarianism) کی بنیاد پر ہی بن سکتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور افادیت جس قسم کا اخلاق پیدا کرتی ہے ، اس کی حد کیا ہے؟&lt;br /&gt;افادیت والے اخلاق کو چاہے کتنی ہی وسعت دے دی جائے ، وہ بہرحال ایک حد سے آگے نہیں جاتی۔&lt;br /&gt;اور وہ حد یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;آدمی بس وہ کام کرے جس کا کوئی فائدہ اِس دنیا میں یا تو اُس کی ذات کو حاصل ہو یا اُس معاشرے کو جس سے وہ تعلق رکھتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور یہ وہ چیز ہے ۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;جو فائدے کی امید میں انسان سے ہر قسم کی نیکی کروا سکتی ہے&lt;br /&gt;اور ،&lt;br /&gt;نقصان کے اندیشے پر انسان سے ہر برائی کا حسبِ موقع ارتکاب کرا سکتی ہے!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس قسم کی اخلاقیت کا بہترین نمونہ موجودہ زمانے کی مغربی اقوام ہے ، جس کو اکثر اس امر کی مثال میں پیش کیا جاتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;مادہ پرستانہ نظریہء حیات رکھنے اور آخرت کے تصور سے خالی ہونے کے باوجود اس قوم کے افراد بالعموم دوسروں سے زیادہ سچے ، کھرے ، دیانت دار ، عہد کے پابند ، انصاف پسند اور معاملات میں قابلِ اعتماد ہیں۔&lt;br /&gt;لیکن اس کے پسِ پشت اصل حقیقت کیا ہے؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;حقیقت تو یہ ہے کہ "افادی اخلاقیات" کی ناپایداری کا سے زیادہ نمایاں عملی ثبوت ہمیں اسی قوم کے کردار میں ملتا ہے !&lt;br /&gt;آخر یہ کس طرح ممکن ہے کہ ۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;مغربی قوم کا ایک ایک فرد تو اپنے شخصی کردار میں "افادی اخلاقیات" کا حامل ہوتا مگر ۔۔۔۔ ساری قوم مل کر جن لوگوں کو اپنا نمایندہ اور اپنے اجتماعی امور کا سربراہ کار بناتی ہے وہ بڑے پیمانے پر قوم کی سلطنت اور اس سلطنت کے بین الاقوامی معاملات کے چلانے میں علانیہ ۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;جھوٹ ، بدعہدی ، ظلم ، بےانصافی اور بددیانتی سے کام لیتے اور پوری قوم کا اعتماد ان کو ایک مخصوص مدت تک حاصل رہتا؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ یہ لوگ دراصل مستقل اخلاقی قدروں کے بالکل قائل نہیں ہیں بلکہ ۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;دنیاوی فائدے اور نقصان کے لحاظ سے بیک وقت دو متضاد اخلاقی رویے اختیار کرتے ہیں ، کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیںِ !!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(51, 51, 255);"&gt;بحوالہ :&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(102, 0, 204);"&gt;تفہیم القرآن ، سورہ یونس۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(102, 0, 204);"&gt;&lt;br /&gt;کچھ تصرف کے ساتھ بیان : مولانا قریشی ، صدر جماعت اسلامی ہند ، حیدرآباد ونگ ، انڈیا۔&lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-38751706621092781?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/38751706621092781/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/03/blog-post.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/38751706621092781'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/38751706621092781'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/03/blog-post.html' title='کیا غیر مسلموں کے اخلاق کی کوئی بنیاد ہے ۔۔۔۔؟!'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-1930225838704972331</id><published>2009-02-13T17:15:00.002+05:30</published><updated>2009-02-13T17:18:34.816+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='ہمارا معاشرہ'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='valentine day'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='muslim society'/><title type='text'>امتِ مسلمة کیا حیا نہیں کرے گی ۔۔۔۔ ؟!</title><content type='html'>&lt;span style="color: rgb(51, 51, 255);"&gt;&lt;u&gt;ریحان احمد یوسفی&lt;/u&gt; کے مضمون سے اقتباس ، شکریہ کے ساتھ !&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہم مغرب سے آنے والی ہر چیز کے مخالف نہیں۔&lt;br /&gt;مگر کسی دوسری قوم کے وہ تہوار جن کا تعلق کسی تہذیبی روایت سے ہو ، انہیں قبول کرتے وقت بڑا محتاط رہنا چاہیے۔ یہ تہوار اس لئے منائے جاتے ہیں تاکہ کچھ عقائد و تصورات انسانی معاشروں کے اندر پیوست ہو جائیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مسلمان ، عیدالاضحیٰ کے تہوار پر حضرت ابراھیم علیہ السلام کی خدا سے آخری درجہ کی وفاداری کی یاد مناتے ہیں۔&lt;br /&gt;آج ہم ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں تو گویا ہم اس نقطہء نظر کو تسلیم کر رہے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;مرد و عورت کے درمیان آزادانہ تعلق پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں !&lt;br /&gt;اہل مغرب کی طرح ہمیں اپنی بیٹیوں سے "عصمت" مطلوب نہیں !&lt;br /&gt;اپنے نوجوانوں سے پاکدامنی کا مطالبہ ہم نہیں کریں گے !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;عیدالاضحیٰ کے موقع پر کوئی ہندو ، گائے کو ذبح کر کے مسلمانوں کے ساتھ شامل ہونے کا تصور نہیں کر سکتا۔ لیکن ہندوؤں کی موجودہ نسل گائے کے تقدس سے بےنیاز ہو کر عید کی خوشیوں میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہو جائے تو عین ممکن ہے کہ ان کی اگلی نسلیں صبح سویرے مسلمانوں کے ساتھ گائیں ذبح کرنے لگیں۔&lt;br /&gt;ٹھیک اسی طرح آج ہم "ویلنٹائن ڈے" پر خوشیاں منا رہے ہیں اور ہماری اگلی نسلیں حیا و عصمت کے ہر تصور کو ذبح کر کے "ویلنٹائن ڈے" منائیں گی !!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اسے دور کی کوڑی مت خیال کیجئے۔&lt;br /&gt;ہماری موجودہ نسلیں صبح و شام اپنے گھروں میں مغربی فلمیں دیکھتی ہیں۔ عریاں و فحش مناظر ان فلموں کی جان ہوتے ہیں۔ ان میں ہیرو اور ہیروئین شادی کے بندھن میں جڑے بغیر ان تمام مراحل سے گزر جاتے ہیں جن کا بیان میاں بیوی کے حوالے سے بھی ہمارے ہاں معیوب سمجھا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;ایسی فلمیں دیکھ دیکھ کر جو نسلیں جوان ہوں گی وہ "ویلنٹائن ڈے" کو ایسے نہیں منائیں گی جیسا کہ آج اسے منایا جا رہا ہے۔&lt;br /&gt;جب وہ نسلیں اس دن کو منائیں گی تو خاندان کا ادارہ درہم برہم ہو جائے گا۔ اپنے باپ کا نام نہ جاننے والے بچوں سے معاشرہ بھر جائے گا۔ مائیں "حیا" کا درس دینے کے بجائے اپنی بچیوں کو مانع حمل طریقوں کی تربیت دیا کریں گی۔ سنگل پیرنٹ (Single Parent) کی نامانوس اصطلاح کی مصداق خواتین ہر دوسرے گھر میں نظر آئیں گی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج سے 1400 برس قبل مدینہ کے تاجدار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو معاشرہ قائم کیا تھا اسکی بنیاد "حیا" پر رکھی گئی تھی۔ جس میں زنا کرنا ہی نہیں ، اسکے اسباب پھیلانا بھی ایک جرم تھا۔ اس معاشرے میں زنا ایک ایسی گالی تھا جو اگر کسی پاکدامن پر لگا دی جائے تو اسے کوڑے مارے جاتے تھے۔ جس میں عفت کے بغیر مرد و عورت کا معاشرہ میں جینا ممکن نہ تھا۔ اس معاشرہ کے بانی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ کر دیا تھا کہ :&lt;br /&gt;" جب تم حیا نہ کرو تو جو تمھارا جی چاہے کرو " !!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تاجدارِ مدینہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امتیوں نے کبھی حیا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔&lt;br /&gt;مگر اب لگتا ہے کہ امتی ، حیا کے اس بھاری بوجھ کو زیادہ دیر تک اٹھانے کے لئے تیار نہیں۔&lt;br /&gt;اب وہ "حیا" نہیں کریں گے بلکہ جو ان کا دل چاہے گا وہی کریں گے !!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;"ویلنٹائن ڈے" ۔۔۔۔ کسی دوسرے تہوار کا نام نہیں ۔۔۔۔ بلکہ ۔۔۔&lt;br /&gt;مسلمانوں کے لئے یہ وہ تہوار ہے جب امتی اپنے آقا کو بتاتے ہیں کہ ہم وہ کریں گے جو ہمارا دل چاہے گا !!&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-1930225838704972331?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/1930225838704972331/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/02/blog-post_13.html#comment-form' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/1930225838704972331'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/1930225838704972331'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/02/blog-post_13.html' title='امتِ مسلمة کیا حیا نہیں کرے گی ۔۔۔۔ ؟!'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-2313608047410826724</id><published>2009-02-04T18:54:00.000+05:30</published><updated>2009-02-04T18:55:16.474+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='طنز و مزاح'/><title type='text'>گلف کی زندگی</title><content type='html'>یہ کنٹراکٹ بھی لے لو، اقامہ بھی لے لو&lt;br /&gt;بھلے چھین لو مجھ سے میری یہ نوکری &lt;br /&gt;مگر مجھ کو لوٹا دو محنت کی کمائی &lt;br /&gt;وہ کاغذ پہ لکھی ، وہ بندش پرانی &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ چھوٹے سے کمرے میں آٹھ آٹھ بندے&lt;br /&gt;جو رہتے ہیں جیسے ٹوکری میں انڈے&lt;br /&gt;وہ چھٹی کا آنا اور راتوں کا رونا&lt;br /&gt;یہ کپڑوں کا اپنے ہاتھوں سے دھونا &lt;br /&gt;یہ باتھ روم کی بدبو یہ گندی رسوئی &lt;br /&gt;بھلائے نہیں بھول سکتا یہ expatکوئی&lt;br /&gt;یہ ساری مصیبت ہے لمبی کہانی &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کڑی دھوپ میں بغیر اے۔ سی نکلنا&lt;br /&gt;یہ پانی ، یہ 7اپ ، یہ پیپسی کا پینا&lt;br /&gt;یہ superiorsکی باتوں پہ لڑنا جھگڑنا&lt;br /&gt;یہ بیمار پڑھنا اور پھر سے سنبھلنا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ مجبور حالت یہ بے کسی یہ یادیں &lt;br /&gt;یہ ٹوٹے ہوئے امیدوں کی ہے نشانی &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کبھی رات کا مشکلوں سے گزرنا&lt;br /&gt;درخواست لکھنا ،چھٹی منظور نہ ہونا&lt;br /&gt;وہ معصوم بچوں کی چاہت ہے اپنی&lt;br /&gt;وہ کاندھوں پہ ذمہ داری کی زنجیر اپنی&lt;br /&gt;نہ مرنے کا غم ہے نہ حالت سے بندھن &lt;br /&gt;بڑی بے بسی ہے یہ گلف کی زندگی &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ کنڑاکٹ بھی لے لو ، اقامہ بھی لے لو&lt;br /&gt;بھلے چھین لو مجھ سے میری یہ نوکری &lt;br /&gt;مگر مجھ کو لوٹا دو محنت کی کمائی &lt;br /&gt;وہ کاغذ پہ لکھی، وہ بندش پرانی ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-2313608047410826724?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/2313608047410826724/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/02/blog-post_04.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/2313608047410826724'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/2313608047410826724'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/02/blog-post_04.html' title='گلف کی زندگی'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-241122370294074598</id><published>2009-02-03T19:50:00.000+05:30</published><updated>2009-02-03T19:52:27.249+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='عورت'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='ہمارا معاشرہ'/><title type='text'>بیٹی کے لئے باپ اور بیٹے کے لئے ماں</title><content type='html'>&lt;span style="color:#3333ff;"&gt;- ثمینہ انصاری (جدہ)&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مجھے آج تک یاد ہے میں جب چھوٹی سی تھی اور اپنے پاپا کی بہت لاڈلی تھی ۔ وہ دفتر جانے کے لئے گھر سے نکلنے سے قبل آواز دیتے کہاں ہے ، میری نادیہ ؟ میں بھاگی ہوئی جاتی ۔ پاپا مجھے گود میں لیکر پیار کرتے ۔ مجھے اتنی خوشی ہوتی کہ سارا دن مسحور سی رہتی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مجھے اپنی امی سے بھی بہت محبت ہے مگر نجانے کیوں ، پاپا کی تو بات ہی کچھ اور تھی ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرا بڑا بھائی ،سلیم امی کا لاڈلا تھا ۔ وہ اسکول سے آنے کےبعد سائے کی طرح امی کے ساتھ لگا رہتا مگر مجھے پاپا کی آمد کا انتظارہوتا تھا ۔ میں امی سے صرف یہ پوچھنے جاتی کہ پاپا کے آنے میں کتنی دیر باقی ہے ؟ وہ مجھے کچھ کھانے کو دیتیں تو میں کہہ دیتی کہ پاپا کے ساتھ کھاؤں گی ۔ میرا دل چاہتا کہ میں اپنے ہاتھوں سے پاپا کو روٹی پکا کر کھلاؤں ، ان کو کپڑے استری کر کہ دوں ، ان کی خدمت کروں ۔&lt;br /&gt;وقت گزرتا گیا میں اور میں میٹرک میں پہنچ گئی ۔ اس وقت تک تو صورتحال یہ ہو چکی تھی کہ میں نے پاپا کے تمام کام سنبھال لئے تھے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ میں امی کا ہاتھ بٹانا چاہتی تھی اور دوسری بات یہ کہ مجھے پاپا سے بے حد پیار تھا ۔&lt;br /&gt;اگر کبھی ہمارے والدین میں کسی قسم کی" کھٹ پٹ " ہوجاتی تو مجھے اپنے پاپا پر بے حد رحم آتا اور میرا دل چاہتا کہ میں امی سے کہہ دوں کی اب بس کر دیں ۔ جیسے ہی یہ تنازع ختم ہوتا ، میں پاپا سے کہتی کہ اپنے دل سے امی کی تمام باتیں نکال دیں ۔ میں آپ کو ٹینشن میں نہیں دیکھ سکتی ۔ امی کا موڈ خوشگوار ہوگا میں انھیں سمجھا دونگی اور پھر میں ایسا ہی کرتی تھی ۔&lt;br /&gt;ادھر سلیم بھائی جان امی کو سمجھاتے کہ آپ فکر نہ کریں ، آپ کا بیٹا بڑا ہوگیا ہے ۔ میں آپ کو افسردہ نہیں دیکھ سکتا ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہر روز صبح، شام میں اور شام صبح میں ڈھلتی رہی ۔ وقت گزرنے کاپتہ ہی نہیں چلا ۔ ایک روز پاپا کے قریبی اعزہ کے ہاں سے میرے لئے پیغام آیا ، امی اور پاپا نے ہاں کردی ۔ مجھے صرف اس بات کی خوشی تھی کہ میں پاپا کے رشتہ داروں کے ہاں بیاہ کر جا رہی تھی ۔ شادی کے بعد بھی میرا دل پاپا کی خدمت کے لئے بےچین رہتا تھا ۔ میں آنوں بہانوں میکے آتی ، کام کاج میں امی کا ہاتھ بٹاتی اور پاپا کی خدمت کرتی ۔&lt;br /&gt;میری شادی کو چند سال ہی گزرے تھے کہ پاپا کا انتقال ہوگیا ۔ مجھے ایسا لگا جیسے دنیا سے محبت وشفقت معدوم ہوگئی ۔ اب میں نے تمام توجہ شوہر کی خدمت پر مرکوز کر دی کیونکہ میں میکے جاتی تو اپنے پیارے پاپا کی اس قدر یاد آتی کہ آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ نکلتے مگر میں بھائی جان کو دیکھتی کہ وہ اسی گھر میں امی کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہے ہیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اللہ کریم نے مجھے دوبیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا ہے ۔ آج پاپا کے انتقال کو بیس برس گزر چکے ہیں ۔ میرے بچپن کی کہانی میرے ہی گھر میں دہرائی جا رہی ہے ۔ میری بیٹی نازش اپنے ابو سے بے حد پیار کرتی ہے ۔ ان کا خیال رکھتی ہت ۔ ان کے دفتر سے آنے کا انتظار کرتی ہے ۔ کھانے کے لئے بلاؤں تو کہتی ہے آپ لوگ کھا لیں ، میں ابو کے ساتھ کھانا کھا لوں گی ۔&lt;br /&gt;یہی نہیں بلکہ اس نے اپنے ابو کے وہ تمام کام جو میری ذمہ داری تھے، اسی نے سنبھال لئے ۔ وہ نجمی کے کپڑے دھونے ،بوٹ پالش کرنے ، ان کے لئے کھانا اور انہی کی پسند کی چپاتی پکانے کے تمام کام خود ہی کرنے لگی ۔ کبھی کبھار تو وہ نجمی کو جب میں چائے بنا کر دیتی وہ کہتے کہ" تم نے کیوں بنائی ، نازش سے کہو مجھے چائے بناکر دے ۔ اس کی ہاتھ کی چائے کا تو جواب ہی نہیں۔ نجمی کی یہ بات سن کر مجھے غصہ بھی آجاتا مگر میں سوچتی کہ پھر کیا ہوا، بیٹی ہی تو ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ادھر میرے دونوں بیٹے میرے ساتھ یوں رہتے جیسے وہ کوئی اور نہیں بلکہ چوکیدار ہیں جو میرے پہرے پر مامور ہیں ۔ نجمی بھی انھیں یہی کہتے ہیں کہ ماں کا خیال رکھا کرو ۔ نازش نہ صرف باپ کا بلکہ دونوں بھائیوں کا بھی بے حد خیال رکھتی ہے ۔سچ پوچھئیے تووہ میری ہی خدمت کر رہی ہے کیونکہ ان کے کام وہ نہیں کرئیگی تو مجھے ہی کرنے پڑے نگے ۔ میں نے یہ صورتحال اپنے ہی گھر میں نہیں دیکھی بلکہ لڑکیوں کا عمومی رویہ یہی دیکھا کہ انھیں باپ سے زیادہ محبت ہوتی ہے جبکہ لڑکے اپنی ماں سے زیادہ محبت کرتے ہیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اگر ہم ان حقائق کی تحقیق کریں تو یہ امر واضح ہوگا کہ درحقیقت لڑکی میں دوسروں کا خیال رکھنے اور ان کی خدمت کرنے کا جذبہ قدرتی طور پر ہی ودیعت ہوتا ہے جسے "ممتا " کہا جاتا ہے فرق یہ ہے کہ یہ قدرتی جذبہ شادی سے پہلے ماں باپ کی خدمت اورماں بننے کے بعد اولاد کی ممتا کی شکل میں سامنے آتا ہے ۔ اسی طرح لڑکوں کو ماں سے محبت یوں زیادہ ہوتی ہے کہ وہ خود کو صنف قوی سمجھتے ہیں ۔ ان کی یہ سوچ بھی قدرت کی عطا کی ہوئی ہوتی ہے ۔ وہ ماں کو، عورت ہونےکے ناتے کمزور تصور کرتے ہیں اور اس کا سہارا بننے کے لئے ہر دم گوشاں رہتے ہیں ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-241122370294074598?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/241122370294074598/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/02/blog-post_03.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/241122370294074598'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/241122370294074598'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/02/blog-post_03.html' title='بیٹی کے لئے باپ اور بیٹے کے لئے ماں'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-4513259293061436213</id><published>2009-02-01T12:36:00.001+05:30</published><updated>2009-02-01T12:39:23.707+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='sad poetry'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='حزنیہ شاعری'/><title type='text'>ایک "اکیلی" کے نام !!</title><content type='html'>اُس "اکیلی" کے نام ۔۔۔&lt;br /&gt;جو کبھی فلسطین کے ویراں علاقوں میں ملے&lt;br /&gt;کبھی عراق کے تباہ و برباد شہروں میں&lt;br /&gt;تو کبھی گجرات کی خون ریز سڑکوں پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div align="center"&gt;&lt;span style="color:#cc33cc;"&gt;اکیلی&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;شاعر : &lt;span style="color:#6600cc;"&gt;بلراج کومل&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اجنبی اپنے قدموں کو روکو ذرا&lt;br /&gt;جانتی ہوں تمہارے لئے غیر ہوں&lt;br /&gt;پھر بھی ٹھہرو ذرا&lt;br /&gt;سنتے جاؤ یہ اشکوں بھری داستاں&lt;br /&gt;ساتھ لیتے چلو یہ مجسم فغاں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج دنیا میں میرا کوئی بھی نہیں&lt;br /&gt;میری امی نہیں&lt;br /&gt;میرے ابا نہیں&lt;br /&gt;میری آپا نہیں&lt;br /&gt;میرے ننھے سے معصوم بھیا نہیں&lt;br /&gt;میری عصمت کی مغرور کرنیں نہیں&lt;br /&gt;وہ گھروندہ نہیں جس کے سائے تلے&lt;br /&gt;لوریوں کے ترنم کو سنتی رہی&lt;br /&gt;پھول چنتی رہی&lt;br /&gt;گیت گاتی رہی&lt;br /&gt;مسکراتی رہی&lt;br /&gt;آج کچھ بھی نہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میری نظروں کے سہمے ہوئے آئینے&lt;br /&gt;میری امی کے ، میرے ابا کے ، آپا کے&lt;br /&gt;اور میرے ننھے سے معصوم بھیا کے خون سے&lt;br /&gt;ہیں دہشت زدہ&lt;br /&gt;آج میری نگاہوں کی ویرانیاں&lt;br /&gt;چند مجروح یادوں سے آباد ہیں&lt;br /&gt;آج میری امنگوں کے سوکھے کنول&lt;br /&gt;میرے اشکوں کے پانی سے شاداب ہیں&lt;br /&gt;آج میری تڑپتی ہوئی سسکیاں&lt;br /&gt;اک سازِ شکستہ کی فریاد ہیں&lt;br /&gt;اور کچھ بھی نہیں&lt;br /&gt;بھوک مٹتی نہیں&lt;br /&gt;تن پہ کپڑا نہیں&lt;br /&gt;آس معدوم ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج دنیا میں میرا کوئی بھی نہیں&lt;br /&gt;اجنبی اپنے قدموں کو روکو ذرا&lt;br /&gt;سنتے جاؤ یہ اشکوں بھری داستاں&lt;br /&gt;ساتھ لیتے چلو یہ مجسم فغاں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میری امی بنو&lt;br /&gt;میرے ابا بنو&lt;br /&gt;میری آپا بنو&lt;br /&gt;میرے ننھے سے معصوم بھیا بنو&lt;br /&gt;میری عصمت کی مغرور کرنیں بنو&lt;br /&gt;میرے کچھ تو بنو&lt;br /&gt;میرے کچھ تو بنو&lt;br /&gt;میرے کچھ تو بنو !!&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-4513259293061436213?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/4513259293061436213/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/02/blog-post.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/4513259293061436213'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/4513259293061436213'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/02/blog-post.html' title='ایک &quot;اکیلی&quot; کے نام !!'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-7885149840014049524</id><published>2009-01-31T22:14:00.002+05:30</published><updated>2009-01-31T22:17:00.674+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='woman'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='women rights'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='عورت'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='ہمارا معاشرہ'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='حقوقِ نسواں'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='muslim society'/><title type='text'>اسلام اور حقوقِ نسواں</title><content type='html'>ہم اسلام کے احسانات کو یاد نہیں رکھتے ، بس ان معاملات میں الجھے رہتے ہیں جو ہمارے دل کی تنگی کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔ پھر ہم شکایتیں کرتے ہیں کہ اسلام نے عورت کی حیثیت کو کم کیا ہے۔&lt;br /&gt;جبکہ اسلام نے عورت کو وہ حقوق دئے ہیں جو کسی اور مذہب نے نہیں دئے۔&lt;br /&gt;دنیا کی کسی بھی مذہی کتاب میں عورتوں کے نام سے کوئی chapter موجود نہیں لیکن قرآن وہ واحد آسمانی کتاب ہے جس میں عورتوں کے نام (النساء) کی ایک مکمل سورۃ موجود ہے۔&lt;br /&gt;اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے واضح کر دیا ہے کہ مرد اور عورت میں سے کس کا درجہ بڑا ہے اور کس کا کم ؟&lt;br /&gt;بےشک مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں جو بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔&lt;br /&gt;سورۃ:التوبۃ ، آیت:71&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جدیدیت کا مطلب ہم نے یہ لے لیا ہے کہ مرد اور عورت مادر پدر آزاد ہو جائیں، انہیں کوئی روک ٹوک نہ ہو۔&lt;br /&gt;مغرب نے جب اس طرح کی آزادی اور حقوق عورت کو دئے تو آج اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں :&lt;br /&gt;* آج وہاں ناجائز بچوں کی تعداد جائز سے زیادہ ہے&lt;br /&gt;* یہی بچے مستقبل کے جرائم پیشہ افراد بنتے ہیں&lt;br /&gt;* مغربی مفکر اس رحجان سے پریشان ہیں اور ان موضوعات پر کتابیں لکھی جا رہی ہیں&lt;br /&gt;* عورت کے لئے "بیک ٹو ہوم" کا نعرہ لگایا جا رہا ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مغرب نے عورت کو چند حقوق تو دئے لیکن بدلے میں عورت نے اپنا سکون ، شرم و حیا اور گھر جیسے پرسکون ادارے کو خیرباد کہہ دیا۔ اتنا کچھ گنوا کر ہی اسے نام نہاد آزادی ملی۔&lt;br /&gt;کیا ہم مسلمان بھی یہی چاہتے ہیں کہ اتنا بہترین نظامِ زندگی جو اسلام نے دیا ہے ، اسے چھوڑ کر غیروں سے رہنمائی حاصل کریں ؟&lt;br /&gt;مسلمان عورت کو معاش کی ذمہ داری سے مبرا کیا گیا ، اس کا دائرہ کار مخصوص کیا گیا اور اسے گھر پر توجہ دینے پر ابھارا گیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج مغربی دنیا میں اسلام تیزی سے پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ اس میں اکثریت تعلیم یافتہ خواتین کی ہے اور خواتین یہی کہتی ہیں کہ جو حقوق اور تحفظ اسلام میں ہے ، وہ کہیں اور نہیں۔&lt;br /&gt;عورت کو اسلام میں اتنی آزادی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے تجارت کر سکتی ہے۔ اپنی علیحدہ جائداد رکھ سکتی ہے۔ تعلیم حاصل کر سکتی ہے۔&lt;br /&gt;صحابیات رضی اللہ عنہما کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔&lt;br /&gt;حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) نے 48 سال تک دین کا علم پھیلایا اور 88 علماء کی وہ معلمہ تھیں۔&lt;br /&gt;اگر اسلام نے عورت کے ساتھ ناانصافی کی ہوتی تو ان خواتین کو یہ مقام نہ ملتا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مغربی معاشرہ یا اس سے مرعوب مسلمان یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ خواتین کو حقوق دئے جائیں۔ لیکن خود اس معاشرے نے خواتین کو کیا دیا؟&lt;br /&gt;آرٹ اور کلچر کے خوبصورت پردوں کے پیچھے عورت کا اس قدر استحصال کیا گیا کہ وہ مردوں کے ہاتھوں کھلونا بن کر رہ گئی۔&lt;br /&gt;اسلام ، عورت کو عورت ہی رہنے دیتے ہوئے ، وہ تمام جائز کاموں کی اجازت دیتا ہے جو مردوں کو حاصل ہیں اور کوئی چیز اس کی ترقی میں مانع نہیں ہوتی۔&lt;br /&gt;عورت تعلیم میں مردوں سے بھی آگے جا سکتی ہے لیکن حدود وہی رہیں گے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر کئے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کچھ جگہ مسلم معاشرے کا خود قصور ہے کہ وہ عورت کو اس کا جائز حق نہیں دیتے اور یہ صرف قرآن و سنت کی تعلیم سے دوری کا نتیجہ ہے۔&lt;br /&gt;قرآن و سنت میں دئے گئے حقوق کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اسلام نے عورت کو جو حقوق دئے ہیں وہ موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں !!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(153, 51, 153);"&gt;(روزنامہ اردو نیوز 28۔مارچ کی ایک تحریر سے)&lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-7885149840014049524?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/7885149840014049524/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_31.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/7885149840014049524'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/7885149840014049524'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_31.html' title='اسلام اور حقوقِ نسواں'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-8873794697047256433</id><published>2009-01-30T23:42:00.000+05:30</published><updated>2009-01-30T23:50:56.518+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقتباس'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='quote'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='ماں'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='mother'/><title type='text'>ماں ۔۔۔ اے ماں !!</title><content type='html'>ابا جی مارتے تھے تو امی بچا لیتی تھیں۔&lt;br /&gt;ایک دن میں نے سوچا کہ اگر امی پٹائی کریں تو ابا جی کیا کریں گے؟&lt;br /&gt;اور یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا ہوتا ہے میں نے امی کا کہنا نہ مانا۔&lt;br /&gt;انہوں نے کہا کہ بازار سے دہی لا دو۔ میں نہ لایا۔&lt;br /&gt;انہوں نے سالن کم کر دیا۔ میں نے زیادہ پر اصرار کیا۔&lt;br /&gt;انہوں نے کہا : پیڑھی کے اوپر بیٹھ کر روٹی کھاؤ۔ میں نے زمین پر دری بچھائی اور اس پر بیٹھ گیا اور کپڑے میلے کر لئے۔ میرا لہجہ بھی گستاخانہ تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مجھے پوری توقع تھی کہ امی ضرور ماریں گی۔&lt;br /&gt;مگر انہوں نے مجھے سینے سے لگا کر کہا :&lt;br /&gt;"کیوں دلاور پتر ! میں صدقے ، بیمار تو نہیں ہے تُو؟"&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس وقت میرے آنسو تھے کہ رکتے ہی نہ تھے !!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(51, 51, 255);"&gt;(مٹی کا دیا :: مصنف : مرزا ادیب)&lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-8873794697047256433?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/8873794697047256433/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_30.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/8873794697047256433'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/8873794697047256433'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_30.html' title='ماں ۔۔۔ اے ماں !!'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-7666238713799673467</id><published>2009-01-29T04:55:00.002+05:30</published><updated>2009-01-29T05:00:54.603+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='عام معلومات'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='مزاح'/><title type='text'>ٹماٹر - سبزی ہے یا میوہ</title><content type='html'>"اب آپ ٹماٹر کھانا بند کردیجئے" ۔ بیگم نے مجھ سے کہا وہ سبزی لانے بازار گئی تھیں اور واپس آکر یہ مشورہ دے ڈالا ۔&lt;br /&gt;اپنی مرضی کے خلاف بیگم کا یہ مشورہ مجھے پسند نہیں آیا ۔ " میں ٹماٹر خوری " کا جواز تلاش کرنے لگا تھا کہ بیگم نے میرے چہرے پر ناگواری کے اثرات دیکھ کر رعایت کردی " اگر بند نہیں کر سکتے تو کم ضرور کردیجئے " ۔&lt;br /&gt;" کیوں" میں نے سوال کیا۔&lt;br /&gt;" ٹماٹر مہنگے ہو گئے ہیں ۔ٹماٹر جو کبھی سستے دام ملا کرتے تھے ، اب پھلوں کے بھاؤ مل رہے ہیں ۔ ٹماٹر کے دام سیب سے زیادہ ہیں ۔ اگر یہی حال رہا تو تول کے بجائے عدد کے حساب سے ملا کریں گے! " بیگم نے وجہ بتائی ۔&lt;br /&gt;" مجھے خوشی ہے کہ ٹماٹر نے اپنی اہمیت منوالی ہے ۔ ٹماٹر کو میوے کے دام بکنا ہی چاہیئے تھا"۔ میں نے ٹماٹر سے اپنی اٹوٹ چاہت کا اظہار کیا۔&lt;br /&gt;" کیا مطلب !" بیگم نے حیرت سے مجھے گھورا ۔&lt;br /&gt;" مطلب یہ کہ بنیادی طور پر ٹماٹر سبزی نہیں میوہ ہے ،اسے میوہ کی طرح ہی فروخت ہونا چاہیئے ۔" میں نے وضاحت کی ۔&lt;br /&gt;" میں مہنگائی کا رونا رو رہی ہوں اور آپ ٹماٹر سبزی ہے یا پھل ہونے کا بکھیڑا لے کر بیٹھ گئے ۔&lt;br /&gt;"مہنگائی اور میری باتوں سے پریشان ہوتے ہوئے بیگم بولیں ۔ " مہنگائی کی طرح آپ بھی میری سمجھ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں " اور اپنی خریداری سمیٹ کر کچن میں چلی گئیں ۔&lt;br /&gt;ٹماتر پھل ہے یا ترکاری ۔۔؟ یہ بہت قدیم سوال ہے ۔ اس سوال نے کئی طالب علموں کو پریشان کیا ہے اور آج بھی کر رہا ہے ۔ سائنس کہتی ہے کہ اپنی جبلت میں ٹماٹر میوہ ہے ۔ میوہ کی طرح پھلتا پھولتا ہے ۔ اس میں بیج پائے جاتے ہیں لیکن جب یہی پھل باورچی خانہ میں جاتا ہے اور وہاں سے کھانے کی میز پر آتا ہے تو ترکاری بن جاتا ہے ۔ باورچی ٹماٹر کو پھل ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے ساتھ سبزی والا رویہ اپناتے ہیں ۔ پھلوں کو ملنے والی عزت سے بے چارہ محروم ہو جاتا ہے اور باورچی اسے کاٹ کاٹ کر ہانڈیوں میں ڈال کر بھونتے اور پکاتے ہیں ۔&lt;br /&gt;ٹماٹر سبزی ہے یا میوہ ، مرغی پہلے آیا یا انڈا جیسا سوال ہے جو صدیوں سے زیر بحث ہے اور جس کا ابھی تک تشفی بخش جوا ب اس لئے دریافت نہیں ہوسکا کہ دونوں باتیں صحیح ہیں ۔ اس سوال پر امریکہ کی عدالتوں میں بحث بھی ہوئی اور آخر 1893ء میں امریکہ کی سپریم کورٹ نے ٹیکس کی وصولی کے معاملے میں ٹما ٹر کو قانونا سبزی قرار دیا ۔ آج بھی امریکہ میں ٹماٹر کی حیثیت سبزی ہی کی ہے لیکن اس فیصلے سے ٹماٹر کی سائنسی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑا ۔ نباتاتی نقطہ نظر سے ٹماٹر ہر حال میں میوہ ہے اور مستقبل میں بھی وہ میوہ ہی رہے گا۔&lt;br /&gt;مجھے ٹماٹر بہت پسند ہے ۔ میری پسند کی یوں تو کئی وجوہات ہیں لیکن اہم وجہ سائنس کے استاد کی چھڑی کی وہ مار ہے جو میں نے ٹماٹر کو ترکاری بتانے پر کھائی تھی ۔ اس وقت میں نے تہیہ کر لیا تھا کہ ٹماٹر سے اپنی بے عزتی کا بدلہ اسے کھا کر لوں گا ۔ جب بھی مجھے ٹماٹر ملتا میں اسے کچا چبا ڈالتا ۔ وقت کے ساتھ غیر محسوس طریقے سے ٹما ٹر سے میرا یہ انتقام محبت میں تبدیل ہوتا گیا اور میں اب بدلہ کی بھاؤنا میں نہیں رغبت سے ٹما ٹر کھاتا ہوں ۔ ہر دن اور دن میں تین مرتبہ کسی نہ کسی شکل میں ٹماٹر میرے سامنے ہوتا ہے اور میں ٹماٹر اڑانے میں کوئی تکلف نہیں کرتا۔ ٹماٹر کی یہ خوبی بھی ہے کہ اس کو کھانے کے کئی طریقے ہیں ۔&lt;br /&gt;مجھے ٹماٹر اس لئے بھی پسند ہے کہ اسے پھل کی طرح کھایا اور ترکاری کا طرح استعمال کیا جا سکتا ہے ۔&lt;br /&gt;آپ پھلوں کے رسیا ہیں تو آم یا سیب کے رس کی طرح " ٹماٹرجوس" پئیں اور اگر ترکاریوں کو صحت کا ضامن سمجھتے ہیں تو" ٹماٹرسوپ " سے شوق فرمائیں ۔اگر کوئی قدرتی غذاؤں میں اعتقاد رکھتا ہو تو وہ ٹماٹر کو کچا تناول کر سکتا ہے اور اگر کوئی اس بات پر ایمان لے آیا ہے کہ پکانے سے غذائی خوبیاں نکھرتی ہیں ، ذائقہ بہتر ہوتا ہے اور مضر اثرات سے چھٹکارا ملتا ہے تو وہ ٹماٹر کا سالن بنا کر کھا سکتا ہے ۔ چٹور زبان والوں کو بھی ٹماٹر مایوس نہیں کرتا ، ان کے لئے وہ چٹنی ، ساس اورکیچ اپ میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ ایسی خوبی کسی دوسرے میوے یا ترکاری میں نہیں پائی جاتی ! سیب کو کچا کھا سکتے ہیں ، اس کا جوس پی سکتے ہیں لیکن اس کا سالن نہیں بنا سکتے۔ اسی طرح بھنڈی کا سالن بنایا جا سکتا ہے لیکن اسے کچا نہیں کھایا جا سکتا۔&lt;br /&gt;ٹماٹر مجھے اس لئے بھی پسند ہیں کہ وہ صحت کے لئے بہت مفید ہے ۔ایک مرتبہ میں نے ڈاکٹر سے ٹما ٹر کو رغبت سے کھانے کے متعلق دریافت کیا تھا ۔ ڈاکٹر نے فرمایا: " شوق سے ٹماٹر کھائیے ۔ ٹماٹر میں وٹامن اے ، سی ،کے اور معدنیات ہوتے ہیں ۔ ان کے ساتھ رنگین مادے بھی پائے جاتے ہیں جو ہماری صحت کی حفاظت کرتے ہیں ۔ اور یہ مادے بلخصوص کینسر اور دل کے امراض کے خلاف کارگرہوتے ہیں ۔ ڈاکٹر کی صحت بخش اور امید افزا باتیں سن کر اس دن میں نے دو، چارٹماٹر زیادہ کھائے تھے ۔ اس معاملے میں سیب غیر ضروری شہرت پاگیا ۔ سیب سے زیادہ فائدہ مجھے ٹماٹر میں نظر آتا ہے ۔ اسی لئے میں ٹماٹر کو غریب آدمی کا سیب قرار دیتا اورنعرہ لگاتا ہوں کہ ہر دن ٹماٹر کھائیں اور ڈاکٹر کو دور بھگائیں ۔ ان ٹماٹر مہنگے ہونے لگے ہیں&lt;br /&gt;تو سمجھ میں نہیں آتا کہ سستے داموں میں صحت کی حفاظت کیسے کی جائے !&lt;br /&gt;مجھے ٹماٹر اس کی رنگ کی وجہ سے بھی پسند ہے ۔ کھانے سے پہلے میں ٹماتر کو ہاتھ میں لئے آگے پیچھے گھما کر دیکھتے ہوئے مسحور ہو جاتا ہوں ۔ دیکھنے میں طبعت سیر ہونے کے بعد میں ٹماٹر کو اپنے جسم کا حصہ بناتا ہوں ۔ اکثر مجھے اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ اتنا شاندار رنگ اور خوبصورت جسامت رکھنے کے باوجود شاعروں اور ادیبوں نے ٹماٹر کو تشبیہ اور استعاروں میں استعمال نہیں کیا ۔ شاید ترکاری ہونے کی تہمت اٹھانے کا یہ خمیازہ ہے ۔ اگر ٹماٹر سیب کی طرح صرف پھل ہوتا تو سرخ دمکتے گالوں کو ٹماٹر سے تشبیہ دی جاتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;ٹماٹر کا چاہنے والا ایک میں ہی نہیں آپ بھی ہونگے بلکہ ہزاروں ، لاکھوں لوگ ٹماٹر کے شیدائی اور سودائی ہیں ۔ اسپین کے شہر Burial میں ہر سال ٹماٹر کے ہزاروں عاشق جمع ہوتے اور ایک دوسرے پر ٹماٹر پھنکتے ہیں ۔Tomatina " La نامی اس تہوار میں ہزاروں کلو ٹماٹر پھینکے جاتے ہیں ۔ لوگ اور سڑکیں لال لال ہو جاتیں ہیں ۔ آپس میں اور ٹماٹر سے دل بستگی کے اظہار کا یہ انوکھا طریقہ ہے ۔ ٹماٹر پھینکنے کے اس جشن سے یاد آیا کہ ناراضی اور غم وغصہ کے اظہارکے لئے بھی ٹماٹر پھینکے جاتے ہیں ۔ محفلوں اور جلسوں میں لوگ بڑے اہتمام سے ٹماٹر لے آتے اور نشانے پر پھینک کر اپنے جزبات کا اظہار کرتے ہیں ۔ ٹماٹر پھینکتے وقت مجھے یقین ہے کہ کوئی یہ نہیں سونچتا کہ ٹماٹر سبزی ہے یا میوہ !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مضمون نگار : &lt;span style="color: rgb(204, 51, 204);"&gt;عابد معز&lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-7666238713799673467?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/7666238713799673467/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_29.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/7666238713799673467'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/7666238713799673467'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_29.html' title='ٹماٹر - سبزی ہے یا میوہ'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-5632474210087737125</id><published>2009-01-27T14:05:00.001+05:30</published><updated>2009-01-27T14:07:40.987+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='general knowledge'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='عام معلومات'/><title type='text'>تلازمات - Associations</title><content type='html'>کسی چیز کو سیکھنے کے دوران قدیم معلومات سے جدید معلومات کا جوڑنا ایک فطری بات ہے۔&lt;br /&gt;سیکھنے کے دوران ہم انجانے طور پر اس طرح کے تلازمات قائم کرتے رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;مثلاَ :&lt;br /&gt;وطن کے لفظ کے ساتھ ہی ہمیں اپنے اپنے وطن کا نام یاد آتا ہے۔&lt;br /&gt;کرکٹ کا لفظ سنتے ہی کرکٹ کے اپنے محبوب کھلاڑی کا نام ذہن میں آنا فطری بات ہے۔&lt;br /&gt;"نشیمن" پر کسی شعر کے سنتے ہی دوسرا شعر "نشیمن" کا یاد آ ہی جاتا ہے۔&lt;br /&gt;کسی نظم کا پہلا مصرعہ پڑھتے ہی اس نظم کا دوسرا مصرعہ ذہن میں آتا ہے کیونکہ پہلے مصرعے کے آخری لفظ سے دوسرے مصرعے کے پہلے لفظ میں ایک تعلق اور جوڑ ہمارے ذہن میں جمع ہوا ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;پوری نظم کے مصرعوں میں ایک مصرعہ کے اخیر اور دوسرے کے شروع میں ایسے تلازمات قائم ہو جاتے ہیں۔ جب یہ تلازمات ٹوٹتے ہیں تو ہم نظم کو بھولنے لگتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اعادے (repetition) کی کثرت ، ان تلازمات کے نقوش کو قوی تر بناتی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہم زندگی گزارنے میں سہولت کی خاطر مصنوی تلازمات بنا اور اختیار کر سکتے ہیں۔ مصنوی تلازمات ان تلازمات کو کہتے ہیں جو پہلے سے پائے نہیں جاتے بلکہ پیش آنے والی باتوں میں غور و تدبر سے انہیں قائم کرنا پڑتا ہے۔&lt;br /&gt;اس کی ایک آسان سی مثال اپنی طالب علمی کے زمانے سے پیش کرتی ہوں۔&lt;br /&gt;انگریزی کے دو الفاظ ہیں :&lt;br /&gt;WEEK اور WEAK&lt;br /&gt;پڑھتے وقت میرے لئے یہ فرق کرنا مشکل تھا کہ کون سا لفظ کمزور کے لئے ہے اور کون سا ہفتہ کے لئے؟ کیونکہ یہ دو الفاظ ہم آواز ہیں۔&lt;br /&gt;ہماری کلاس ٹیچر نے ان الفاظ کو یاد رکھنے کا ایک دلچسپ طریقہ بتایا تھا۔&lt;br /&gt;انہوں نے کہا کہ ہفتہ میں ایک سے زائد دن ہوتے ہیں اور اس کے لفظ WEEK میں ایک سے زائد E ہوتے ہیں۔&lt;br /&gt;اس "تلازمہ" کو سمجھ لینے کے بعد مذکورہ دشواری باقی نہیں رہی !!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اسی خطوط پر جدید علم کو قدیم علم سے جوڑنے کی اگر ہم مشق کرتے جائیں تو قدم قدم پر بیشمار تلازمات ذہن میں قائم کئے جا سکتے ہیں۔ اس طرح قدیم معلومات گویا کھونٹیاں ہیں جن سے جدید معلومات کو لٹکایا جاتا ہے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-5632474210087737125?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/5632474210087737125/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/associations.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/5632474210087737125'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/5632474210087737125'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/associations.html' title='تلازمات - Associations'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-6947066375680095022</id><published>2009-01-25T21:22:00.002+05:30</published><updated>2009-01-25T21:28:13.824+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='کچن پکوان'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='indian recipe'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='حیدرآبادی دہی کی کڑھی'/><title type='text'>حیدرآبادی دہی کی کڑھی</title><content type='html'>&lt;span style="color: rgb(204, 0, 0);"&gt;پہلا مرحلہ&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(51, 102, 255);"&gt;بیسن دہی&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;اجزاء&lt;br /&gt;۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;1۔ دہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 500گرام&lt;br /&gt;2۔ بیسن (چنے کا آٹا) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آدھا کپ&lt;br /&gt;3۔ دھنیا پاوڈر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1 چائے کا چمچ&lt;br /&gt;4 ۔ لال مرچ پاؤڈر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسب ذائقہ&lt;br /&gt;5۔ نمک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسب ذائقہ&lt;br /&gt;6 ۔ ہلدی پاؤڈر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ آدھا چائے کا چمچ&lt;br /&gt;7 ۔ ادرک لہسن پیسٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1 چائے کاچمچ&lt;br /&gt;8 ۔ پیاز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1 عدد ( باریک کھڑی کاٹ لیں )&lt;br /&gt;9 ۔ لہسن کے جوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 4 سے 5 عدد&lt;br /&gt;10 ۔ ہری مرچ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2 عدد (آدھی آدھی کاٹ لیں )&lt;br /&gt;11۔ کریا پات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھوڑا سا&lt;br /&gt;12۔ ہرا دھنیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ باریک کاٹ لیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(204, 51, 204);"&gt;ترکیب ۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;دہی ، بیسن ، نمک ، لال مرچ پؤڈر ، ہلدی پاؤدر ، ادرک لہسن پیسٹ&lt;br /&gt;تین چار کپ پانی ڈال کر مکسر میں اچھی طرح مکس کر لیں ۔&lt;br /&gt;اب برتن میں اس مکس کئے ہوئے اجزاء کو ڈال دیں، اب اسمیں کٹی ہوئی ہیاز، لہسن کے جوئے ، کریا پات ، ہری مرچ ڈال دیں اور خوب اچھی طرح پکائیں قریب 30 منٹ دھیمی آنچ پہ پکائیں اس کے بعد دھنیا پاؤڈر ڈال دیں اور مزید 5 منٹ تک پکاتے رہیں دھیان رہے کہ پکاتے وقت چمچ سے ہلاتے رہیں ورنہ داغ لگنے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(204, 0, 0);"&gt;دوسرا مرحلہ&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(51, 51, 255);"&gt;پکوڑے ۔۔۔۔۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;اجزاء ۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;1 ۔ بیسن ۔۔۔۔۔۔۔ 2 کپ&lt;br /&gt;2 ۔ نمک ۔۔۔۔۔حسب ذائقہ&lt;br /&gt;3 ۔ لال رچ پاؤڈر۔۔۔حسب ذائقہ&lt;br /&gt;4 ۔ ہلدی پاؤڈر۔۔۔۔ تھوڑا سا&lt;br /&gt;5 ۔ادرک لہسن پیسٹ ۔۔۔۔آدھا چائے کا چمچ ۔&lt;br /&gt;6 ۔ کھانے کا سوڈا (میٹھا سوڈا) ۔۔۔۔۔۔آدھا چائے کا چمچ ۔&lt;br /&gt;7 ۔ ہرا دھنیا۔ (باریک کاٹ کر ملا لیں )&lt;br /&gt;8 ۔ تیل ۔۔۔۔۔۔پکوڑے فرائی کرنے کے لئے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(204, 51, 204);"&gt;ترکیب ۔۔۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;سب اجزاء کو ایکجا کر لیں اورنیم گرم پانی سے اچھی طرح مکس کر لیں یاد رہے کہ اس میں پانی زیادہ نہ ملائیں ۔ تھوڑی دیر کے لئے رکھ دیں ۔&lt;br /&gt;فرائنگ پان میں تیل اچھی طرح گرم ہونے دیں اور اور چمچ سے چھوٹے چھوٹے پکوڑے ڈال کرتل لیں ۔ اور بازو میں رکھیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(204, 0, 0);"&gt;تیسرا مر حلہ&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(51, 51, 255);"&gt;بگھار ۔۔۔۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;اجزاء ۔۔۔۔&lt;br /&gt;۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;1۔ ثابت زیرہ ۔۔۔۔۔۔ ایک چائے کا چمچ&lt;br /&gt;2۔ سوکھی لال مرچ ثابت ۔۔۔۔۔3 ،4 عدد&lt;br /&gt;3۔ کریا پات ۔۔۔۔ تھورا سا&lt;br /&gt;4 ۔ لہسن کے جوئے ۔۔۔۔۔۔2 عدد باریک کاٹ لیں ۔&lt;br /&gt;5۔ تھوڑا سا تیل&lt;br /&gt;6 ۔ ہلدی ۔۔۔۔ تھوڑی سی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کڑھی، پکوڑوں کو یکجا کریں فرئینگ پان میں تیل گرم کریں ثابت زیرہ ۔ سوکھی لال مرچ کریا پات لہسن کے جوئے ڈال دیں اور براؤن ہونے پر ہلدی ڈال کڑھی میں بگار لگا دیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(204, 102, 204);"&gt;مزیدار کڑھی تیار ہے ۔۔۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(204, 102, 204);"&gt;گھر میں بنے پراٹھوں کے ساتھ نوش فرما ئیں اور مجھے دعا دیں ۔&lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-6947066375680095022?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/6947066375680095022/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_25.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/6947066375680095022'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/6947066375680095022'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_25.html' title='حیدرآبادی دہی کی کڑھی'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-4628506524575249092</id><published>2009-01-24T17:31:00.000+05:30</published><updated>2009-01-24T17:33:34.332+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='terrorism'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='gaza'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='دہشت گردی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='غزہ'/><title type='text'>سعودی بچی کا پیغام - بارک اوباما کے نام</title><content type='html'>12 سالہ سعودی بچی جودی لؤی خاشقجی ،ٹیلی ویژن پرغزہ میں بچوں کی ہلاکت کے خوف ناک مناظر دیکھ کر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور اس نے ای میل کے ذریعہ امریکہ کے نئے صدر بارک اوباما کو اپنا پیغام ارسال کیا جس میں اس نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کے بچوں کو ہر قسم کی سہولت فراہم کی جائے ۔ جو بچے زخمی ہو گئے ہیں ان کا اچھے اسپتالوں میں میں علاج کرایا جائے ۔ اس نے اپنے پیغام میں کہا کہ :&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جناب ! آپ اس وقت دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ کے صدر ہیں ۔ آپ کو پوری دنیا میں قدرواحترم کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ آپ بھی باپ ہیں اورآپکی بھی دو بچیاں ہیں جو ہماری عمر کی ہیں ۔ چند روز قبل اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی ہلاک ہوگئے جبکہ بے شمار افراد زخمی حالت میں اسپتالوں میں موت وحیات کی کشمکش میں ہیں ۔ لاکھوں افراد کے مکانات منہدم کر دئے گئے ہیں اور وہاں کے مکین کھلے آسمان کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ اسرائیلی وحشیانہ حملوں میں سیکڑوں بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں جن کے خوف ناک مناظرٹیلیویژن کی اسکرینوں پر پوری دنیا کے لوگوں نے دیکھے۔ یہ مناظر اس قدر خوفناک ہیں کہ لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور دل دہل کر رہ گئے۔&lt;br /&gt;میں نے اپنی چھوٹی سی زندگی میں اس سے پہلے ایسے خوفناک مناظر نہیں دیکھے تھے جن میں بیشتر باپ اپنی گود میں ننھے منے بچوں کی لاشیں لئے کھڑے تھے۔&lt;br /&gt;میں آپ سے بصد ادب و احترام درخواست کرتی ہوں کہ آپ ایسے اقدامات کریں کہ اسرائیل دوبارہ ایسی غلطی کا ارتکاب نہ کر سکے اور جو بچے زخمی ہو گئے ہیں انہیں اسپتالوں میں معیاری خدمات فراہم کی جائیں تاکہ وہ مستقبل میں دوسروں کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہوں۔&lt;br /&gt;مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ بھی بچوں کے باپ ہیں اور بچوں کے درد و غم کو اچھی طرح محسوس کر سکتے ہیں۔ اس لئے امید ہے کہ آپ میری باتوں پر خصوصی توجہ دیں گے اور غزہ کے زخمی بچوں کا پورا خیال رکھیں گے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آپ کی خیرخواہ&lt;br /&gt;&lt;span style="color:#993399;"&gt;جودی لؤی خاشقجی (ابھا)۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color:#3333ff;"&gt;بشکریہ: اردو نیوز&lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-4628506524575249092?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/4628506524575249092/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_24.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/4628506524575249092'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/4628506524575249092'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_24.html' title='سعودی بچی کا پیغام - بارک اوباما کے نام'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-6754301674898298217</id><published>2009-01-22T07:05:00.001+05:30</published><updated>2009-01-22T07:07:32.721+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='woman'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='مدر ٹریسا'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='mother teresa'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='عورت'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='شخصیات'/><title type='text'>ہندوستان کی مدر ٹریسا</title><content type='html'>&lt;a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%AF%D8%B1_%D9%B9%D8%B1%DB%8C%D8%B3%D8%A7"&gt;مدر ٹریسا&lt;/a&gt; کی پیدائش 27۔اگست 1910ء کو یوگوسلاویہ میں ہوئی۔&lt;br /&gt;مدر ٹریسا کے والدین البانیہ کے رہنے والے تھے۔&lt;br /&gt;مدر ٹریسا نومبر 1928ء میں کلکتہ آئیں اور اپنی باقی زندگی یہیں گزار دی۔&lt;br /&gt;مدر ٹریسا ، کلکتہ کے سینٹ میری اسکول میں جغرافیہ کی ٹیچر رہیں اور یہیں سے اپنی سماجی خدمت کا آغاز کیا۔&lt;br /&gt;مدر ٹریسا نے جب " مشنریز آف چیریٹی " قائم کیا تو ان کی جیب میں صرف پانچ روپے تھے۔ آج اس ادارے کے ٹرسٹ میں ایک سو کروڑ روپے جمع ہیں اور سو سے زیادہ ممالک میں اس ادارے کی شاخیں کام کر رہی ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مدر ٹریسا کو 1979ء میں انسانی خدمت کے صلے میں &lt;span style="color: rgb(153, 51, 153);"&gt;نوبل انعام&lt;/span&gt; دیا گیا۔&lt;br /&gt;مدر ٹریسا کو 1980ء میں بھارت کے سب سے اعلیٰ اعزاز "&lt;span style="color: rgb(204, 51, 204);"&gt;بھارت رتن&lt;/span&gt;" سے نوازا گیا۔&lt;br /&gt;مدر ٹریسا کا انتقال 5۔ستمبر 1997ء کو ہوا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مگر افسوس کہ عالمِ انسانیت کی اس مشہور چارہ گر خاتون کو &lt;span style="color: rgb(255, 0, 0);"&gt;دینِ حق&lt;/span&gt; قبول کرنے کی توفیق نہ ہو سکی !!&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-6754301674898298217?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/6754301674898298217/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_22.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/6754301674898298217'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/6754301674898298217'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_22.html' title='ہندوستان کی مدر ٹریسا'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-7864175676724498647</id><published>2009-01-21T20:55:00.000+05:30</published><updated>2009-01-21T20:56:38.508+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='humour'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='مزاح'/><title type='text'>لغاتِ فکری</title><content type='html'>&lt;span style="color: rgb(255, 0, 0);"&gt;لغاتِ فکری&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;از : &lt;span style="color: rgb(51, 51, 255);"&gt;فکر تونسوی&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تعلیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان پڑھ لوگوں کو بے وقوف بنانے کا ہھتیار۔&lt;br /&gt;طالبِ علم ۔۔۔۔۔۔ ایک پیاسا جیسے سمندر میں دھکا دے دیا جاتا ہے اور وہ عمر بھر ڈبکیاں کھاتا رہتا ہے۔&lt;br /&gt;استاذ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیوقوفوں کو عقل مند بنا کر اپنا دشمن بنانے والا بے وقوف۔&lt;br /&gt;شرافت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک عینک جیسے اندھے لگاتے ہیں ۔&lt;br /&gt;اندھیرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔شیطان کا گھر جیسے خدا اپنے ہاتھ سے تعمیر کرتا ہے ۔&lt;br /&gt;بہادر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آگ کو پانی سمجھ کر پی جانے والا کم علم ۔&lt;br /&gt;نیکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے پہلے زمانے میںلوگ دریا مین ڈال دیتے تھے ۔آج کل منڈی میں برائے فروخت بیچ دیتے ہیں ۔&lt;br /&gt;جھوٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک پھل جودیکھنے میں حسین ہے کھانے میں لذیذ ہے لیکن جیسے ہضم کرنا مشکل ہے ۔&lt;br /&gt;سچائی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک چور جو ڈر کے مارے باہر نہیں نکلتا ۔&lt;br /&gt;خوشامد۔۔۔۔۔۔۔۔ کمزور کی طاقت اور طاقت ور کی کمزوری ۔&lt;br /&gt;امید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک پھول جو کبھی بنجر زمین کو زرخیز بنا دیتا ہے اور کبھی زرخیز زمین کو بنجر۔&lt;br /&gt;ڈھٹائی۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف جسم ہی جسم روح غائب ۔&lt;br /&gt;کمزوری۔۔۔۔۔ جیسے زندہ لوگ حملہ کر دیتے ہیں اور بڑے خوش ہوتے ہیں ۔&lt;br /&gt;شاعر۔۔۔۔۔۔۔ایک پرندہ جو عمر بھر اپنا گمشدہ آشیانہ ڈھونڈتا رہتا ہے۔&lt;br /&gt;شاعر۔۔۔۔۔۔اندھیرے میں بھٹکتا ہوا ایک چراغ۔&lt;br /&gt;لفظ ۔۔۔۔۔۔ جو منھ سے ادا ہو جائے تو باہر جنگ چھڑ جائے ۔اور ادا نہ ہو تو اندر جنگ چھڑ جائے ۔&lt;br /&gt;بے روز گاری ۔۔۔۔۔۔۔۔ عزت حاصل کرنے سے پہلے بے عزتی کا تجربہ ۔&lt;br /&gt;عشق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک معزز قیدی جیسے جیل میں ہمیشہ اے کلاس ملتی ہے&lt;br /&gt;عشق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خود کشی کرنے سے پہلے کی حالت ۔&lt;br /&gt;محبوبہ ۔۔۔۔۔۔ ایک قسم کی غیر قانونی بیوی۔&lt;br /&gt;بیاہ ۔۔۔۔۔۔ عشق کا انجام بچوں کا آغاز۔&lt;br /&gt;بیوی ۔۔۔۔۔ محبوبہ کا انجام۔&lt;br /&gt;بیوی ۔۔۔۔۔ ایک لطیفہ جو بار بار دہرانے سے باسی ہو جاتا ہے۔&lt;br /&gt;بیوی۔۔۔۔۔۔ محبوبہ کی بگڑی ہوئی شکل۔&lt;br /&gt;گرہستی عورت ۔۔۔۔۔ گرہستی مرد کی گاڑی کا پٹرول۔&lt;br /&gt;بچے ۔۔۔۔۔ ماں باپ کے پیدا کئے ہوئے ماں باپ۔&lt;br /&gt;ماں باپ ۔۔۔۔ بیک وقت بچوں کے حاکم اور بچوں کے غلام۔&lt;br /&gt;رسوئی گھر۔۔۔۔۔۔ گرہستی عورت کی راجدھانی۔&lt;br /&gt;دوست ۔۔۔۔ دشمنی سے پہلے کی ایک منزل۔&lt;br /&gt;دشمنی ۔۔۔۔ دوستی کا انجام۔&lt;br /&gt;ڈاکٹر ۔۔۔۔۔ جو بیماروں سے ہنس ہنس کر باتیں کرتا ہے اور تندرستوں کو دیکھ کر منہ پھیر لیتا ہے۔&lt;br /&gt;الیکشن ۔۔۔ ایک دنگل جو ووٹروں اور لیڈروں کے درمیان ہوتا ہے ؛ اور جس میں لیڈر جیت جاتے ہیں اور ووٹر ہار جاتے ہیں ۔&lt;br /&gt;ووٹ۔ ۔۔۔۔۔ چیونٹی کے پر جو ہر برسات کے موسم مین نکل آتے ہیں ۔&lt;br /&gt;امیدوار۔۔۔۔ بڑے بڑے عقل مندوں کو بھی بیوقوف بنانے والا عقل مند۔&lt;br /&gt;انتیخابی جلسہ ۔۔۔۔۔ ایک تمبورہ جس پر بے سرے گانے گائے جاتے ہیں ۔&lt;br /&gt;انتخابی جھنڈے ۔۔۔۔۔۔رنگا رنک پتنگوں کی دکان۔&lt;br /&gt;پولنگ ایجنٹ ۔۔۔۔۔ امید وار کا چمچہ۔&lt;br /&gt;کرپشن ۔۔۔۔ ایک زہر جسے شہد کی طرح مزے لے لے کر چاٹا جاتا ہے ۔&lt;br /&gt;سیاست ۔۔۔۔۔ پیسے والوں کی عیاشی اور بن پیسے والوں کے گلے کا ڈھول۔&lt;br /&gt;پیسہ۔۔۔۔۔ ایک چھپکلی جو انسان کے نہہ میں آگئی اب اسے کھائے تو کوڑھی اور چھوڑے تو کلنکی۔&lt;br /&gt;خود کشی ۔۔۔۔ جائز چیز کا ناچائز استعمال۔&lt;br /&gt;کرسی ۔۔۔۔۔۔ جس پر بیٹھ کر عقل مند آدمی بے وقوف بن جاتا ہے۔&lt;br /&gt;رشتہ دار۔۔۔۔ ایک رسی جو ٹوٹ کر بھی سر پر لٹکتی رہتی ہے ۔&lt;br /&gt;بدصورت عورت۔۔۔۔ حسیناؤں کو پرکھنے کا آلہ ۔&lt;br /&gt;امن۔۔۔۔ وحشی لوگوں کے نیند کا زمانہ۔&lt;br /&gt;لنگڑا۔۔۔۔ دو پانوں والوں سے زیادہ خطرناک۔&lt;br /&gt;بوڑھے ۔۔۔ دیوالیہ دکان کے باہر ٹنگا ہوا پرانا سائن بورڈ۔&lt;br /&gt;بدیشی قرضہ ۔۔۔۔۔۔۔ ایک ڈائن جو بچے پیدا کرتی ہے انھین کھلاتی اور پالتی پوستی ہے اور پھر خود ہی انھیں کھا جاتی ہے ۔&lt;br /&gt;دہلی ۔۔۔ جہاں مکان بڑے اور انسان چھوٹے ہیں&lt;br /&gt;بمبئی ۔۔۔۔۔ ایک مندر جہاں بھگوان نکل گیا ہے&lt;br /&gt;کلکتہ ۔۔۔۔ جہاں کے لوگ دن کو ایک دوسرے سے لڑتے ہین ۔رات کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر گانا گاتے ہیں ۔&lt;br /&gt;حکومت۔۔۔ کانٹوں کا تاج جیسے ہر گنجا پہننا چاہتا ہے ۔&lt;br /&gt;خوش قسمت۔۔۔ ایک لاٹھی جو جس کے ہاتھ لگ جائے اسی کی ہو جاتی ہے۔&lt;br /&gt;دل ۔۔۔۔ ایک قبر جس کے نیچے اکثر زندہ مردے دفن کر دئے جاتے ہیں ۔&lt;br /&gt;دماغ ۔۔۔۔ شیطان اور خدا دونوں کا مشترکہ گھر۔&lt;br /&gt;بائیسکل۔۔۔۔ کلرک بابو کی دوسری بیوی۔&lt;br /&gt;کلرک۔۔۔۔ ایک گیدڑ جو شیر کا جامہ پہن کر کرسی پر بیٹھتا ہے ۔&lt;br /&gt;سڑک ۔۔۔ راستہ جو جنت کو بھی جاتا ہے اور جہنم کو بھی ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-7864175676724498647?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/7864175676724498647/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_21.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/7864175676724498647'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/7864175676724498647'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_21.html' title='لغاتِ فکری'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-1036187263594380945</id><published>2009-01-19T17:36:00.000+05:30</published><updated>2009-01-19T17:38:01.844+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقتباس'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='quote'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اردو افسانہ'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='urdu story'/><title type='text'>سِلّی اُردو -- Silly URDU</title><content type='html'>کاتب غوث صاحب ۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;ہاں ! ان کا فن کچھ ایسا تھا کہ بےاختیار ان کے ہاتھ چومنے کو دل چاہتا۔ ایسے لگے جیسے سفید کاغذ پر کسی نے کالے موتے بکھیر دئے ہیں۔ یا سنگِ مرمر پر سنگِ موسیٰ سے پچی کاری کی گئی ہے۔ یوں بھی محسوس ہو کہ ہاتھوں میں تاج محل کی دیوار کا ایک حصہ آ گیا ہے۔ جس پر آیتیں کندہ ہوں۔ خط کوفی ، رقاء ، ثلث ، نستعلیق ، سب پر پوری قدرت ، ایک بار قلم اٹھا تو دیکھنے والوں کو یوں معلوم ہوتا کہ جھرنا بہہ رہا ہے یا کمپیوٹر کے پردے پر حروف ابھر آئے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مجھے کاتب غوث صاحب کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔ کیونکہ میری ان سے ملاقات صرف اس وقت ہوئی تھی جب گھر میں شادی کا موقع آیا تھا۔ رقعہ لکھوانے پہنچا تھا ان کے پاس۔&lt;br /&gt;لوگ کہتے ہیں کہ جب تک وہ خورشید پریس میں رہے ، ان کی مالی حیثیت قابلِ رشک رہی۔ تنخواہ کے علاوہ گھر میں رات کے بارہ ایک بجے تک کتابت کرتے رہتے تھے۔ یوں انہوں نے ایک مکان خریدا۔ دو بیٹیوں کی شادیاں کیں۔ بیٹے کو گریجویٹ بنایا۔ لیکن پریس کی ملازمت گئی تو ان کا گزارا صرف گھر پر آنے والے کاموں کی اجرت پر منحصر ہوا۔ پھر آسمان بھی تو رنگ بدلتا ہے۔&lt;br /&gt;غیر محسوس طریقے سے اردو کا چلن کم ہوا۔ انگریزی رقعوں پر اکتفا ہونے لگا۔ اردو رقعوں میں خرچ بھی زیادہ آتا ہے۔ خطاطی اور بلاک پر سوا تا ڈیڑھ سو روپے اٹھ جاتے۔&lt;br /&gt;ویسے آج کی نسل اردو رقعوں کو دیکھ کر ناک کان بھوں مونچھیں سب چڑھاتی ہے۔ کہتی ہے :&lt;br /&gt;What Daddy‪?&lt;br /&gt;Why Mummy‪?&lt;br /&gt;Who knows this language nowadays‪?&lt;br /&gt;Silly Urdu‪.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آسمان کے اس نئے رنگ نے کاتب غوث صاحب پر بھی اپنا اثر چھوڑا۔&lt;br /&gt;کہاں وہ دن کہ نکاح کا رقعہ الگ ، ولیمہ کا الگ سے۔&lt;br /&gt;چھوہاروں ، مصریوں کی تھیلی کے لئے الگ چھپائی۔&lt;br /&gt;پھر تہنیتیں۔ بہن کی جانب سے ، چھوٹے بھائی کی طرف سے۔&lt;br /&gt;ایک شادی ہوتی ، کاتب صاحب کو ڈھائی تین سو روپے مل جاتے۔ اب تو کوئی silly سا شخص اردو رقعہ چھپواتا ہے۔ صرف نکاح کا !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دلوں میں خلوص ہی باقی نہ رہا تو تہنیتیں کس جگر سے چھاپے کوئی ؟!!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;***&lt;br /&gt;&lt;span style="color:#993399;"&gt;حیدرآباد (دکن) کے افسانہ نگار شبیب احمد کاف (مرحوم) کے تحریر کردہ آخری افسانہ "کاتب صاحب" سے متاثرکن اقتباس&lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-1036187263594380945?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/1036187263594380945/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/silly-urdu.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/1036187263594380945'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/1036187263594380945'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/silly-urdu.html' title='سِلّی اُردو -- Silly URDU'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-7229939597882169609</id><published>2009-01-17T00:59:00.001+05:30</published><updated>2009-01-17T01:02:36.533+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اکبر الہ آبادی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='akbar'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='شخصیات'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اردو شاعری'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='urdu poetry'/><title type='text'>اکبر الہ آبادی : اردو کے سب سے بڑے طنزنگار</title><content type='html'>سید اکبر حسین کی پیدائش 1846ء میں الہ آباد کے پاس جمنا پار کے "بارہ" نامی گاؤں میں ہوئی۔&lt;br /&gt;ابتدائی تعلیم انہوں نے اپنے والد سید تفضل حسین سے حاصل کی۔ ان لوگوں کا خاندان "بارہ" کے علاقے میں مدت سے آباد تھا۔ قدامت پسند ، متوسط حال اور عزت نفس کے پاسدار اس خاندان نے قدیم کلاسیکی تعلیم کی روایتوں کو برقرار رکھا تھا، لیکن ان کی مالی حالت بہت اچھی نہ تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اکبر کو مجبوراً 1863ء میں جمنا پر زیر تعمیر پل کے ٹھیکے دار کے یہاں کلرک کی ملازمت کرنا پڑی۔ اس درمیان انہوں نے اپنی کوششوں سے انگریزی کی اچھی استعداد بہم پہنچا لی اور 1867ء میں عدالت ضلع کے وکلا کا امتحان بآسانی پاس کر لیا۔&lt;br /&gt;اکبر کو 1869ء میں نائب تحصیل دار مقرر کیا گیا ، لیکن جلد ہی انہوں نے وہ نوکری ترک کر دی اور ہائی کورٹ کے وکلا کا امتحان پاس کر کے الہ آباد ہائی کورٹ میں وکالت کرنے لگے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;چند برس کی وکالت کے بعد 1880ء میں وہ منصف کے عہدے پر فائز کئے گئے۔ اس کے بعد وہ سرکاری ملازمت اور عہدوں میں مسلسل ترقی کرتے ہوئے 1894ء میں سشن ججی پر تعینات ہوئے۔&lt;br /&gt;جلد ہی وہ بنارس میں اور پھر دوسرے اضلاع میں ڈسٹرکٹ جج کے عہدے پر متمکن ہوئے۔ حکومت انگلشیہ نے انہیں 1898ء میں خطاب "خان بہادر" سے سرفراز کیا۔ 1903ء میں ملازمت سے سبکدوشی کے بعد وہ کوتوالی الہ آباد کے پیچھے اپنی تعمیر کردہ وسیع کوٹھی "عشرت منزل" میں آرام اور نیم خانہ نشینی کی زندگی گزارتے رہے ، اگرچہ اس زمانے میں انھیں آنکھوں کی تکلیف کے علاوہ اور بھی عارضے لاحق ہوئے لیکن بحیثیت مجموعی ان کی وظیفہ یابی کے دن اچھے گزرے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;زندگی کے آخری برسوں میں مہاتما گاندھی ، ملک کی آزادی اور ہندو مسلم اتحاد کے لئے مہاتما گاندھی کی جدوجہد سے اکبر کا شغف پہلے سے بھی فزوں ہو گیا۔ انہوں نے ان موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار ایک طویل نظم (یا مختصر نظموں کے طویل سلسلے) "گاندھی نامہ" میں کیا۔&lt;br /&gt;اکبر الہ آبادی سن 1921ء میں وفات پا گئے۔&lt;br /&gt;اس وقت وہ ہندوستان کے ادبی منظرنامے پر ایک نہایت قوت مند اور سیاسی سماجی اعتبار سے وابستہ شاعر کی حیثیت سے اپنی شہرت کے بامِ عروج پر تھے۔&lt;br /&gt;انیسویں صدی کی آخری دو دہائیوں اور بیسویں صدی کی اولین دو دہائیوں میں ان کے دوستوں اور مداحوں کی فہرست مرتب کی جائے تو وہ اُس وقت کا Who's who in India معلوم ہوتی ہے !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اکبر کی وفات کے بعد بھی ان کا کلام ایک دو دہائیوں تک بہت مقبول رہا۔ ان کی کلیات تین جلدوں میں 1909ء سے 1921ء کے درمیان چھپی تھی۔&lt;br /&gt;پہلی جلد تو 1936ء تک گیارہ بار چھپ چکی تھی۔&lt;br /&gt;کلیاتِ اکبر کی چوتھی جلد 1948ء میں کراچی سے چھپی تھی لیکن یہ جلد ہندوستان میں بہت کم لوگوں تک پہنچی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اردو کے سب سے بڑے طنزنگار شاعر کی حیثیت سے اکبر الہ آبادی کی شہرت کو کوئی بٹہ تو نہیں لگا ہے لیکن ان کے پڑھنے والوں کی تعداد میں ضرور کمی ہو گئی ہے۔&lt;br /&gt;اردو کے نقادوں نے کم و بیش یک زبان ہو کر ان کی نکتہ چینی کی ہے کیونکہ اکبر انھیں ترقی ، سائنس اور روشن خیال طرزِ فکر و حیات کے دشمن نظر آتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(204, 51, 204);"&gt;نمونہ کلام :&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں&lt;br /&gt;اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا&lt;br /&gt;پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا&lt;br /&gt;کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اکبر الہ آبادی پر &lt;a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C"&gt;وکی پیڈیا ربط&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اقتباسات :&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(204, 0, 0);"&gt;شمس الرحمٰن فاروقی&lt;/span&gt; صاحب کے مضمون "&lt;span style="color: rgb(51, 102, 255);"&gt;اکبر الہ آبادی : نئی تہذیبی سیاست اور بدلتے ہوئے اقدار&lt;/span&gt;" سے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-7229939597882169609?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/7229939597882169609/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_17.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/7229939597882169609'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/7229939597882169609'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_17.html' title='اکبر الہ آبادی : اردو کے سب سے بڑے طنزنگار'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-3181647591725534457</id><published>2009-01-11T19:43:00.002+05:30</published><updated>2009-01-11T19:46:31.062+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='مسلم معاشرہ'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='life of prophet'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سیرت نبوی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='muslim society'/><title type='text'>شر میں سے خیر کا پہلو</title><content type='html'>ہندوستان کے دارالحکومت نئی دلی سے ایک اردو سہ روزہ اخبار "دعوت" شائع ہوتا ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل و حالات کا عمومی جائزہ پیش کرتا رہتا ہے۔ کبھی کبھی یہ روزنامہ خصوصی اشاعت کے نام پر مختلف اہم موضوعات پر مختصر رسائل بھی شائع کرتا ہے۔ اسی ہفتہ اس نے "نقوشِ سیرت" کے عنوان سے سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک متاثر کن مختصر رسالہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا ہے جس میں جملہ 12 عدد قیمتی اور قابلِ غور و عمل مضامین شامل ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;رسالے کے مدیر محترم جناب پرواز رحمانی نے اداریہ میں "پہلے یہ چند باتیں" کے نام سے موثر مضمون تحریر کیا ہے جس کے چند قتباسات آپ کے بھی مطالعے کے لئے یہاں پیش ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div align="center"&gt;***&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ڈنمارک کے بدبختوں کے واقعے پر جو دو ردّعمل ظاہر ہوئے اس میں سے پہلا ردّعمل مسلم دنیا کی طرف سے تھا جو سراپا احتجاج بن گئی تھی جبکہ دوسرا ردّعمل دنیا کے اُن حلقوں کی جانب سے تھا جو اسلام ، پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور امتِ مسلمہ کے سلسلہ میں پہلے ہی سے معاندانہ رویہ رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;دنیا میں ایک تیسرا حلقہ بھی پایا جاتا ہے جو تجسس اور غیرجانبداری کے ساتھ یہ سب دیکھ رہا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ڈنمارک ، رشدی اور تسلیمہ جیسے مواقع پر ان غیرجانبدارانہ انسانوں کے ذہنوں میں یقیناً یہ سوالات اٹھتے ہوں گے کہ :&lt;br /&gt;- اپنی دینی اقدار بالخصوص اپنے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے آخر مسلمان ہی کیوں اتنے حساس ہیں ، دوسری قومیں کیوں نہیں ہیں؟&lt;br /&gt;- مسلمانوں کے احتجاج پر ان کے معاندین کا ردّعمل کیا معنی رکھتا ہے جبکہ مسلمان نہ دوسرے مذاہب کو برا کہہ رہے ہوتے ہیں ، نہ کسی کی دلآزاری کرتے ہیں ، نہ دوسرے مسلمانوں پر اپنا عقیدہ زبردستی تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں ، بلکہ وہ صرف اپنی دلآزاری پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;* - بعض مخصوص حلقے مسلمانوں کی دلآزاری کرنے والے افراد کی حمایت ، پشت پناہی اور سرپرستی کیوں کرتے ہیں؟&lt;br /&gt;* - اظہارِ رائے کی آزادی کے حامیوں کی غیرت اس وقت کہاں غائب ہو جاتی ہے جب امریکہ میں یہودیوں کی تنقید پر مبنی کتاب تقسیم ہونے نہیں دی جاتی ، مصنفوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں؟&lt;br /&gt;* - یہودیوں کی کمیوں کی نشاندہی کرنے والے ہندوستان کے "ارون گاندھی" جب ان کی اصلاح کی بات کرتے ہیں تو اپنے ہی قائم کردہ ادارے کی سربراہی سے انہیں کیوں برطرف کر دیا جاتا ہے؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دنیا کی غیرجانبدارانہ اکثریت کے ذہنوں میں ایک بڑا سوال یہ بھی پیدا ہو رہا ہوگا کہ دنیا کے ڈیڑھ سو کروڑ انسان ایک ایسے عقیدہ پر دل و جان سے کیوں قائم ہیں جسے کچھ "حلقے" غلط ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے ہیں؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تمام انسانوں کو ہمیشہ کے لئے دھوکے میں نہیں رکھا جا سکتا !&lt;br /&gt;چنانچہ اس شر میں سے خیر کے پہلو نکلنا شروع ہو گئے ہیں۔&lt;br /&gt;غیرجانبدار انسان ، اسلام اور امت مسلمہ کو دیانتداری سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں ، قرآن اور سیرت نبوی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ان کی توجہ خاص طور پر مبذول ہو رہی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;سیرتِ محمدی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر دنیا کی مختلف زبانوں میں کتابوں اور مضامین کی اشاعت ، جلسوں اور پروگراموں کا انعقاد تاریخ کا ایک مستقل اور مسلسل عمل ہے۔&lt;br /&gt;حیاتِ نبوی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نقوش ہمارے دلوں اور دماغوں میں ایک بار پھر تازہ کرنے کی ضرورت ہے !!&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-3181647591725534457?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/3181647591725534457/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_11.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/3181647591725534457'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/3181647591725534457'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_11.html' title='شر میں سے خیر کا پہلو'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-1884068846595771868</id><published>2009-01-10T21:32:00.004+05:30</published><updated>2009-01-10T21:38:22.843+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='iqbal'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='woman'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقبال'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='عورت'/><title type='text'>عورت - اقبال کی نظر میں</title><content type='html'>&lt;span style="color: rgb(255, 0, 0);"&gt;اقبال کے نزدیک عورت کا اصل جوہر ماں بننے میں مضمر ہے۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اقبال کا خیال ہے کہ عورت کی حفاظت نہ تو پردہ ہی کر سکتا ہے اور نہ ہی تعلیم ۔اس کی حفاظت اگر کسی طرح ممکن ہے تو صرف اس وقت جب مرد اس پر آمادہ ہو۔اگر کوئی قوم اس حقیقت کا دراک نہیں کرتی تو وہ بہت جلد تباہی کے گڑھے میں گر جائیگی ، مغربی تہذیب نے عورت کے لئے اعلیٰ تعلیم کے دروازے تو کھول دئے ہیں۔ مگر اس کو دینی تعلیم سے بیگانہ رکھا۔ جس کی وجہ سے معاشرہ فساد کی آمجگاہ بن گیا ہے ۔&lt;br /&gt;مغربی معاشرت میں سب سے ممتاز بات یہ بتائی جاتی ہے کہ وہاں مساوات مرد وزن ہے اور عورت مکمل طور پر آزاد ہے ۔اقبال کہتے ہیں کے مغربی معاشرت مین جو فساد نظر آتا ہے اس کی اصل وجہ یہی ہے جس کی وجہ سے وہاں خاندانی نظام درہم برہم ہو گیا ہے ۔وہاں ملازمتوں پر عورت نے قبضہ کر رکھا ہے اور وہ بچے پیدا کرنے سے بیزار ہو چکی ہے جس کے نتیجہ میں مرد بے کاری کے دن گزار رہا ہے&lt;br /&gt;حالانکہ۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ&lt;br /&gt;اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِدروں&lt;br /&gt;شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی&lt;br /&gt;کہ ہر شرف ہے اسی درج کا درِ مکنوں&lt;br /&gt;مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن&lt;br /&gt;اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(255, 0, 0);"&gt;پردہ&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;بہت رنگ سپرِبریں نے&lt;br /&gt;خدایا یہ دنیا جہاں تھی وہیں ہے&lt;br /&gt;تفاوت نہ دیکھا زن و شو میں میں نے&lt;br /&gt;وہ خلوت نشیں ہے !یہ خلوت نشیں ہے !&lt;br /&gt;ابھی تک ہے پردے میں اولادِ آدم&lt;br /&gt;کسی کی خودی آشکارا نہیں ہے !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(255, 0, 0);"&gt;آزادئ نسواں&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;اس بحث کا کچھ فیصلہ میں کر نہیں سکتا&lt;br /&gt;گو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے ، وہ قند&lt;br /&gt;کیا فائدہ کچھ کہہ کے بنوں اور بھی معتوب&lt;br /&gt;پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند&lt;br /&gt;اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش&lt;br /&gt;مجبور ہیں ، معذور ہیں ، مردانِ خرد مند&lt;br /&gt;کیا چیز ہے آرائش وقیمت میں زیادہ&lt;br /&gt;آزادئ نسواں کہ زمرّد کا گلوبند؟&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-1884068846595771868?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/1884068846595771868/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_10.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/1884068846595771868'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/1884068846595771868'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_10.html' title='عورت - اقبال کی نظر میں'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-4369600835785152249</id><published>2009-01-09T15:34:00.001+05:30</published><updated>2009-01-09T15:38:52.271+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='دین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='شخصیات'/><title type='text'>حضرت فاطمہ الزھراء (رضی اللہ عنہا) ، کائنات کی مثالی خاتون</title><content type='html'>سعودی عرب کا اردو روزنامہ "اردو نیوز" جمعہ کے روز ایک سپلیمنٹ بنام "روشنی" شائع کرتا ہے جو دینی مضامین پر مشتمل ہوتا ہے اور اردو داں گھرانوں میں شوق سے پڑھا جاتا ہے۔ آج (11-07-2008) کے "روشنی" سپلیمنٹ سے ایک قابل غور و فکر مضمون کے اہم اقتباسات پیش خدمت ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;***&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;مضمون : &lt;span style="color: rgb(51, 51, 255);"&gt;حضرت فاطمہ الزھراء (رضی اللہ عنہا) ، کائنات کی 4 مثالی خواتین میں سے ایک&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;مضمون نگارہ : &lt;span style="color: rgb(51, 51, 255);"&gt;آمنہ کوثر&lt;/span&gt;۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;عصرِ حاضر میں عورت کی آزادی نے وہ بھیانک صورتیں اختیار کر لی ہیں جس کے تصور سے انسانیت لرزہ براندام ہے۔ ایک وقت وہ تھا کہ عورت شوہر کے گھر کی ملکہ اور زینت سمجھی جاتی تھی اور آج وہ شمعِ محفل ہے۔&lt;br /&gt;پردہ کو خیرباد کہہ دینے اور حیا کو رخصت کرنے کے جو بدنتائج ہمیں نظر آتے ہیں اس سے نسوانی آزادی کے حامی بھی نفرت کرتے جا رہے ہیں لیکن اب یہ بڑھتا ہوا سیلاب رک نہیں سکتا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مذہب نے عورت کی کیا حیثیت قرار دی تھی ، محافظان دین و ملت نے نسوانی حقوق کا معیار مقرر کرنے میں کس قدر عدل پروری سے کام لیا تھا ، تدبیر منزل کی کیا صورتیں تجویز کی تھیں ، اولاد کی نشو و نما میں "ماں" کو کیا مخصوص درجہ دیا تھا اور گھر میں رکھ کر عورت کے کیا مشاغل قرار دئے تھے ، ان تمام موضوعات پر اگر قلم فرسائی کی جائے تو مستقل کتاب تیار ہو سکتی ہے۔ اس موضوع پر ہمارے اہلِ قلم نے جو جہاد قلم کیا ہے وہ خودپسند طبقہ کے انتباہ کے لئے کافی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;فخرِ کائنات کی پارہء تن حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی پاکیزہ زندگی کا مختصر تعارف موجودہ دور کی بہنوں کے لئے اسوہ حسنہ ہے تاکہ وہ ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی صلاحیت پیدا کریں۔&lt;br /&gt;رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ ؛ انسانیت کی عروج پر پہنچنے والے مرد تو بےشمار ہیں مگر خواتین صرف 4 ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(204, 51, 204);"&gt;آسیہ (رضی اللہ عنہا)&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(204, 51, 204);"&gt;مریم (علیہا السلام)&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(204, 51, 204);"&gt;خدیجۃ الکبریٰ (رضی اللہ عنہا)&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(204, 51, 204);"&gt;فاطمہ الزہرا (رضی اللہ عنہا)&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اول الذکر نے فرعون جیسے دشمنِ توحید کی رفیقہ حیات بن کر بھی اپنے عقیدے کو باقی رکھا اور شوہر کا کفر و عناد ان کے توحید میں ذرہ برابر فرق پیدا نہ کر سکا۔&lt;br /&gt;حضرت مریم علیہا السلام کی عصمت و طہارت پیش خیمہ تھی کہ ان کی گود میں روح اللہ کی نشو و نما ہوگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ان خواتین کے بعد ایک وہ خاتون ہیں جو سرچشمہ عصمت و طہارت ہیں اور جن کی نسل کی بقا کا خدا ذمہ دار ہے۔ ان کی نسل شام ابد تک باقی رہے گی اور دنیا کا چپہ چپہ سادات سے معمور رہے گا۔&lt;br /&gt;حضرت آسیہ ہوں یا حضرت مریم ، دونوں کو فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا جیسے نہ باپ ملے ، نہ شوہر ملا ، نہ فرزند عطا ہوئے لہذا فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کو وہ فضیلت عطا ہوئی جو دنیا کی کسی عورت کو حاصل نہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جب آپ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ثابت ہے تو ان کی طرز زندگی کو اپنانا بھی ثابت ہو جاتا ہے۔&lt;br /&gt;اگر عورت کی آزادی کے لئے مرد کے مساوی حقوق کے دئے جانے کا کوئی تصور ہوتا تو اس نظریہ کی سب سے بڑی حامی سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا ہو سکتی تھیں لیکن ان کا حجاب میں رہنا اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہی دراصل دنیا و آخرت کی سعادت کا ضامن ہے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-4369600835785152249?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/4369600835785152249/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_09.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/4369600835785152249'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/4369600835785152249'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_09.html' title='حضرت فاطمہ الزھراء (رضی اللہ عنہا) ، کائنات کی مثالی خاتون'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-256142809954375240</id><published>2009-01-07T03:51:00.001+05:30</published><updated>2009-01-07T03:54:04.468+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='ہمارا معاشرہ'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='muslim society'/><title type='text'>نوجوان نسل اور والدین و سرپرستوں کی ذمہ داری</title><content type='html'>رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے ہی بتا دیا تھا کہ سب سے بڑی کامیابی جو حاصل ہو سکتی ہے وہ آخرت کی کامیابی ہے۔ اور آخرت کی کامیابی کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : اعمال میں سب سے زیادہ وزنی حسن اخلاق ہوں گے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گھٹتے ہوئے اخلاقی اقدار ، لادینی اور الحاد پر مبنی عقائد ، تشدد میں اضافہ ۔۔۔ ان تمام منفی رویوں سے زیادہ افسوس ناک اثر جو آج کی نوجوان نسل پر پڑ رہا ہے وہ شرم و حیا کے تعلق سے ہے ، بےحیائی اور بےراہ روی کے طریقوں میں فروغ سے متعلق ہے۔&lt;br /&gt;ان کے ذمہ دار کون ہیں ؟ خود نوجوان نسل یا والدین یا سرپرست یا اساتذہ یا بگڑتا معاشرہ ؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اکثر اوقات دیکھا جاتا ہے کہ والدین جن برائیوں کو معاشرے میں دیکھتے ہیں ، دوسرے بچوں کو جن برائیوں کا ارتکاب کرتے ہوئے معیوب سمجھتے ہیں ، اگر اُنہی برائیوں میں خود اپنے بچوں کو ملوث دیکھیں تو اس کا کچھ زیادہ سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا جاتا یا پھر ان کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کی جاتی ہے۔&lt;br /&gt;والدین اپنے بچوں کی جانب مثبت طور پر راغب نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات ان کی غلط عادات کو بےجا لاڈ و پیار کے تحت رعایت تک دے دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;مثلاً اگر بچے کوئی غلط قسم کا میگزین یا ناول پڑھتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ : وہ ذرا یونہی وقت گزاری کے لئے پڑھ رہے ہیں!&lt;br /&gt;غیر اخلاقی و غیر مہذب ٹی وی سیرئیل یا فلمیں دیکھتے نظر آئیں تو یوں پردہ پوشی کی جاتی ہے کہ : بھئی ، ہمارے بچے تو بس "صاف ستھری فلمیں" ہی دیکھتے ہیں۔ یا پھر یوں تاویل کی جاتی ہے کہ : محض ذرا دیر کے لئے ذرا سی تفریح کے لئے ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اگر بچے حجاب و حیا کی حدود کی پابندی نہیں کرتے یا پھر نامحرموں کے ساتھ میل جول ، ہنسی مذاق ، دوستی کرتے پھرتے ہیں تو صفائی دی جاتی ہے کہ : وہ تو صرف دوستی ہے۔ ہمارے بچوں کا دل تو صاف ہے۔ پردہ تو دراصل دل کا ہوتا ہے اور وہی اہم ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہمیں اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ یہ ایسا نہیں ہے کہ ہم نے جو کچھ بھی پڑھا ، دیکھا یا سنا ، وہ صرف اُسی محدود وقت کے لئے تھا اور بس ختم۔ ورنہ تو ہم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔&lt;br /&gt;حالانکہ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ : ہم جو کچھ پڑھتے ، دیکھتے یا سنتے ہیں وہ کہیں کھو نہیں جاتا بلکہ ہمارے ذہن کے لاشعور میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ اور پھر بعد میں جو کچھ معلومات ہم اپنے ذہن سے اخذ کرتے ہیں وہ "محفوظ معلومات" کسی نہ کسی طرح سے اظہار کی راہیں تلاش کرتی ہیں۔&lt;br /&gt;اور یوں ہماری گفتگو ، ہمارے جذبات ، احساسات ، اعمال و معاملات ، غرض ہماری مکمل شخصیت میں ہماری ذہنیت کا ظہور ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;اور یوں وہ محاورہ صادق آتا ہے کہ جو بویا جائے وہی کاٹا بھی جائے گا !!&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-256142809954375240?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/256142809954375240/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_07.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/256142809954375240'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/256142809954375240'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_07.html' title='نوجوان نسل اور والدین و سرپرستوں کی ذمہ داری'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-6305127724289731356</id><published>2009-01-06T03:47:00.001+05:30</published><updated>2009-01-06T04:22:36.778+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='urdu'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اردو'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='ہمارا معاشرہ'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='muslim society'/><title type='text'>اردو کے مٹتے الفاظ</title><content type='html'>محترمہ "عذرا نقوی" ، ہندوستان سے تعلق رکھنے والی ایک معتبر اور نامور شاعرہ و ادیبہ ہیں۔ اردو زبان کے حوالے سے ان کے دلچسپ مضامین وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;جمعہ کے اردو روزنامہ "اردو نیوز" میں بھی ان کا ایک فکرانگیز دلچسپ مضمون شائع ہوا ہے۔ چند مفید اقتباسات ملاحظہ فرمائیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;******************&lt;br /&gt;زبان و ثقافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ زبان کوئی منجمد شئے نہیں۔ بدلتے وقت اور بدلتے سماجی ، معاشی اور سیاسی حالات کے ساتھ کسی بھی زبان میں کچھ الفاظ متروک ہو جاتے ہیں ، کچھ نئے الفاظ رائج ہو جاتے ہیں اور کچھ الفاظ اپنے معنی بدل لیتے ہیں۔ اس عمل میں کچھ یوں ہوتا ہے کہ کبھی کسی ایسے لفظ کے کھو جانے سے دل اداس ہو جاتا ہے جس کے ساتھ کچھ جذباتی لگاؤ ہوتا ہے۔ بہرحال :&lt;br /&gt;ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب سے کوئی بیس برس پہلے ہم لفظ "دہشت گرد" دن میں کتنی بار سنتے تھے؟&lt;br /&gt;"جہانیانِ جہاں گرد" جیسا لفظ ہماری تہذیب کا حصہ تھا مگر اب ۔۔۔۔۔۔؟ افسوس کہ "دہشت گرد" کا لفظ ہمارا مقدر ہے ، یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بہت سی چیزیں جو اب استعمال نہیں ہوتیں ، ان کے نام بھی لوگ بھول جاتے ہیں یا ان کی جگہ انگریزی الفاظ استعمال ہونے لگے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہماری دس سالہ بھتیجی مجھ سے پوچھتی ہے : پھپھو ! آپ کچن کو "باورچی خانہ" کیوں کہتی ہیں، ہمارے گھر میں تو کوئی باورچی نہیں ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گھر میں شادی کا سلسلہ تھا ، مایوں کی رسم تھی۔ میں نے کہا کہ کمرے میں چاندنی کا فرش کر لو۔&lt;br /&gt;"چاندنی" ؟ ہماری نند کی بیٹی میرا منہ تکنے لگی۔&lt;br /&gt;"چاندنی" تو ہماری تقریبات اور رسومات کا ایک اہم جز تھی اور ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کچھ دن پہلے شہر ریاض میں ایک دوست نے دعوت کی تو فیرنی مٹی کی "سکوریوں" میں پیش کی جو وہ بطورِ خاص ہندوستان سے لائے تھے۔ میں نے ان کی بچیوں سے پوچھا کہ بتاؤ ان کو کیا کہتے ہیں؟ ظاہر ہے ان بچیوں کو معلوم نہیں تھا حتیٰ کہ ان بچیوں کی ماں کو بھی مشکل سے یہ نام یاد آیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مٹی کے "کلہڑ" لوگوں کو پھر بھی یاد رہ گئے ہیں کیونکہ ہمارے ہندوستان کے مشہور ریلوے منسٹر لالو پرساد یادو نے ماحولیاتی آلودگی کے پیش نظر ٹرین میں چائے "کلہڑ" میں دینے کا حکم جاری کیا تھا۔&lt;br /&gt;حالانکہ مجھے یاد ہے ہماری امی بہت خفا ہوتی تھیں اگر ہم "کلہڑ" کہتے ، وہ ہمیشہ اسے "آب خورہ" کہتی تھیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گھر میں استعمال ہونے والی چیزیں ۔۔۔۔ سلفچی ، آفتابہ ، بادیہ ، رکابی ، خاصدان ۔۔۔ یہ سب الفاظ اب تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں جو ہم نے اپنے بچپن میں سنے تھے۔&lt;br /&gt;البتہ "پاندان" اب بھی زندہ ہے جو اکثر غزلوں میں بھی جدت پیدا کرنے کے لئے بروزن خاندان باندھا جاتا ہے۔ یعنی : خاندان کی خوشبو ، پاندا ن کی خوشبو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;چلتے چلتے کچھ اور بھی سن لیں۔&lt;br /&gt;ایک صاحبہ ہیں۔ ان کی بیٹی کے جہیز کے کپڑوں کی تیاری جاری تھی۔ وہ کچھ اتنی بوکھلائی ہوئی تھیں کہ "کمبخت" کا غرارہ بنوانے لگیں۔&lt;br /&gt;خدا نہ کرے ، وہ اپنی بیٹی کو کمبخت نہیں کہہ رہی تھیں۔&lt;br /&gt;"زربفت" اور "کمخواب" ان کے ذہن میں خلط ملط ہو گئے اور ان دونوں کو ملا کر ایک نیا کپڑا ایجاد ہو گیا : "کمبخت" !!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;******************&lt;br /&gt;پسِ تحریر :&lt;br /&gt;ہمارے شریک حیات کو بھی اردو کے مٹتے الفاظ کا بڑا خیال رہتا ہے لہذا عموماً کوششیں کرتے رہتے ہیں کہ اردو کے "پرانے" الفاظ ہمارے بچوں کے ذہنوں میں بھی نقش ہو جائیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ بچے پڑوس سے یا دوست احباب کے گھروں سے واپس آ کر منہ بنا کر شکایت کرتے ہیں کہ یہ الفاظ دوسرے بچے نہیں سمجھتے۔&lt;br /&gt;بہرحال ہمارے گھر میں اردو کے یہ الفاظ اب بھی بولے جاتے ہیں :&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;رکابی (plate)&lt;br /&gt;سنگھار میز (dressing table)&lt;br /&gt;پیالی (cup)&lt;br /&gt;کٹوری (small bowl)&lt;br /&gt;طشتری(saucer)&lt;br /&gt;میز (table)&lt;br /&gt;کتاب دان (book shelf)&lt;br /&gt;دیوان خانہ (drawing room)&lt;br /&gt;باورچی خانہ (kitchen)&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-6305127724289731356?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/6305127724289731356/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_06.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/6305127724289731356'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/6305127724289731356'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post_06.html' title='اردو کے مٹتے الفاظ'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4526522193915988026.post-7045707990161833623</id><published>2009-01-05T00:33:00.000+05:30</published><updated>2009-01-05T00:48:18.445+05:30</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='introduction'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='افتتاحیہ'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='استقبال'/><title type='text'>تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی</title><content type='html'>السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;حیدرآباد ، انڈیا سے &lt;span style="color: rgb(255, 0, 0);"&gt;عندلیب&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;اپنے بلاگ&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(204, 51, 204);"&gt;تلاش میں ہے زندگی&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;پر&lt;br /&gt;آپ سب کا دلی استقبال کرتی ہے !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کہا حضور(ص) نے اے عندلیبِ باغِ حجاز!&lt;br /&gt;کلی کلی ہے تری گرمئ نوا سے گداز&lt;br /&gt;ہمیشہ سرخوشِ جامِ ولا ہے دل تیرا&lt;br /&gt;فتادگی ہے تری غیرتِ سجودِ نیاز&lt;br /&gt;اڑا جو پستئ دنیا سے تو سوئے گردوں&lt;br /&gt;سکھائی تجھ کو ملائک نے رفعتِ پرواز&lt;br /&gt;نکل کے باغِ جہاں سے برنگِ بو آیا&lt;br /&gt;ہمارے واسطے کیا تحفہ لے کے تو آیا؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;حضور(ص)! دہر میں آسودگی نہیں ملتی&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(51, 51, 255);"&gt;تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;ہزاروں لالہ و گل ہیں ریاضِ ہستی میں&lt;br /&gt;وفا کی جس میں ہو بو، وہ کلی نہیں ملتی&lt;br /&gt;مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں&lt;br /&gt;جو چیز اس میں ہے جنت میں بھی نہیں ملتی&lt;br /&gt;جھلکتی ہے تری امت کی آبرو اس میں&lt;br /&gt;طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں!!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(0, 102, 0);"&gt;حضورِ رسالتِ مآب(ص) میں :: علامہ اقبال علیہ الرحمۃ&lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4526522193915988026-7045707990161833623?l=andleebindia.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://andleebindia.blogspot.com/feeds/7045707990161833623/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/7045707990161833623'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4526522193915988026/posts/default/7045707990161833623'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/blog-post.html' title='تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی'/><author><name>عندلیب</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01181672137716453882</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry></feed>
