14 May, 2014

چندا کو ڈھونڈنے سبھی تارے نکل پڑے

بچو،
ایک سمئے(وقت) کی بات سنو، اندھیاری تھی رات سنو ، دیپک (چراغ)چوری ہوگیا ، چاند کہیں پر کھو گیا
پھر کیا ہوا؟



چندا کو ڈھونڈنے سبھی تارے نکل پڑے
گلیوں میں وہ نصیب کے مارے نکل پڑے
چندا کو ڈھونڈنے سبھی تارے نکل پڑے
گلیوں میں وہ نصیب کے مارے نکل پڑے

ان کی نظر کا جس نے نظارہ چرا لیا
ان کے دلوں کا جس نے سہارا چرا لیا
اس چور کی تلاش میں سارے نکل پڑے

غم کی اندھیری رات میں جلنا پڑا انھیں
پھولوں کے بدلے کانٹوں پہ چلنا پڑا انھیں
دھرتی پہ جب گگن کے دلارے نکل پڑے

چندا کو ڈھونڈنے سبھی تارے نکل پڑے
گلیوں میں وہ نصیب کے مارے نکل پڑے

ان کی پکار سن کے یہ دل ڈگمگا گیا
ہم کو بھی کوئی بچھڑا ہوا یاد آ گیا
بھر آئی آنکھ آنسو ہمارے نکل پڑے

چندا کو ڈھونڈنے سبھی تارے نکل پڑے
گلیوں میں وہ نصیب کے مارے نکل پڑے

04 May, 2014

شہر حیدرآباد
عباس متقی

سر زمین حیدرآباد آفرین
گوشہ گوشہ گویا فردوس برین

کوچہ و بازار او رونق فروز
بزم ہائے دلبران صاحب یمین

مردمان این شہر پاک رو
پاک طینت پاک باطن نازنین

وسعت او ہمچو دست حاتم است
پرز رنگ ورامش است این سر زمین

شہر علم و دانش و شہرخلوص
شہر لالہ زار وشہر دلنشین

شہر من از مردمان آباد کن
این دعائے شہریار شہ نشین

راہ ہائے این شہر بے مثال
ہمچو کوچہ ہائے معشوق حسین

آبروئے ملک ہندوستان است
حیدرآباد آفرین صد آفرین

بزم ہائے شہر این پایندہ باد
زندہ دل ہم زندگانی راضمین

متقی دوشیزگان شہر ما
نازنین و گل عذارو مہ جبیں

حیدرآباددکن

حیدرآباددکن
احمدعلی برقی آعظمی

حیدرآباد ہے سر چشمہء تہذیبِ دکن
جس کی عظمت کے نشاں اس کے ہیں ابنائے وطن
ضوفگن اس میں تھے ہر دور میں حکمت کے چراغ
ہے یہ تہذیب وتمدن کا تروتازہ چمن
چار مینار ہی اس کی نہیں عظمت کا نشاں
قابل دید ہیں اس کے سبھی آثار کہن
میوزیم اس کا ہے اقصائے جہاں میں مشہور
ہے جو تہذیب و ثقافت کا ہماری درپن
بہمنی اور قطب شاہی زمانے سے یہاں
علم و عرفان کی ہے شمع فروزاں روشن
زیبِ تاریخ ہیں اسمائے گرامی جن کے
ہے یہ صدیوں سے مشاہیر ادب کا مدفن
مجتبیٰ ، مغنی ومخدوم کے افکار سے ہے
نام اس شہر کا دنیائے ادب میں روشن
تھا یہ ہر دور میں گہوارہء اردو برقی
ضوفگن آج بھی اس شہر میں ہے شمع سخن

29 April, 2014

ووٹ حاصل کرنے کے لیے نیتاؤں کی چالبازیاں بمبو حیدرآبادی کی زبانی ملاحظہ فرمائیے ۔

غریب عوام کو بھٹکا کے ووٹ لیتا ہے
دکھا کے نوٹوں کو بہلا کے ووٹ لیتا ہے
گھروں پہ لوگوں کے جاجا کے ووٹ لیتا ہے
بڑے خلوص سے سمجھا کے ووٹ لیتا ہے
ہمارے دیش کے چھوٹے سماج کا نیتا
اسی کو کہتے ہیں اے دوست آج کا نیتا

16 March, 2014

پوپ کہانی - مقصود الٰہی شیخ

ندیدے لڑکے

لڑکا :
آؤ اچھے سے ریستوران میں چائے پیتے ہیں ۔
لڑکی :
پھر تم کہوں گے ،
لونگ ڈرائیو پر چلتے ہیں ۔
لونگ (لوو) لین سے گزرتے ہوئے تم کار کی اسپیڈ کم کردو گے،
تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کھڑی ، اندھرے میں ڈوبی گاڑیوں کی طرف اشارہ کرو گے ، متوجہ کرو گے ۔
پھر اس حوالے سے بتاؤ گے تم نے آج تک کسی لڑکی کو کِس (kiss) نہیں کیا !!۔
لڑکا :
تو تم کیا چاہتی ہو؟
بل میں ادا کروں ،
تم کھاؤ پیو اور سیدھی سیدھی گھر چلی جاؤ ۔۔۔