نوجوان نسل اور والدین و سرپرستوں کی ذمہ داری - AndleebIndia.blogspot.com from Hyderabad India | Health, Beauty, Food recipe, Urdu Literature

2009-01-07

نوجوان نسل اور والدین و سرپرستوں کی ذمہ داری

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے ہی بتا دیا تھا کہ سب سے بڑی کامیابی جو حاصل ہو سکتی ہے وہ آخرت کی کامیابی ہے۔ اور آخرت کی کامیابی کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : اعمال میں سب سے زیادہ وزنی حسن اخلاق ہوں گے۔

گھٹتے ہوئے اخلاقی اقدار ، لادینی اور الحاد پر مبنی عقائد ، تشدد میں اضافہ ۔۔۔ ان تمام منفی رویوں سے زیادہ افسوس ناک اثر جو آج کی نوجوان نسل پر پڑ رہا ہے وہ شرم و حیا کے تعلق سے ہے ، بےحیائی اور بےراہ روی کے طریقوں میں فروغ سے متعلق ہے۔
ان کے ذمہ دار کون ہیں ؟ خود نوجوان نسل یا والدین یا سرپرست یا اساتذہ یا بگڑتا معاشرہ ؟

اکثر اوقات دیکھا جاتا ہے کہ والدین جن برائیوں کو معاشرے میں دیکھتے ہیں ، دوسرے بچوں کو جن برائیوں کا ارتکاب کرتے ہوئے معیوب سمجھتے ہیں ، اگر اُنہی برائیوں میں خود اپنے بچوں کو ملوث دیکھیں تو اس کا کچھ زیادہ سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا جاتا یا پھر ان کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کی جاتی ہے۔
والدین اپنے بچوں کی جانب مثبت طور پر راغب نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات ان کی غلط عادات کو بےجا لاڈ و پیار کے تحت رعایت تک دے دیتے ہیں۔
مثلاً اگر بچے کوئی غلط قسم کا میگزین یا ناول پڑھتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ : وہ ذرا یونہی وقت گزاری کے لئے پڑھ رہے ہیں!
غیر اخلاقی و غیر مہذب ٹی وی سیرئیل یا فلمیں دیکھتے نظر آئیں تو یوں پردہ پوشی کی جاتی ہے کہ : بھئی ، ہمارے بچے تو بس "صاف ستھری فلمیں" ہی دیکھتے ہیں۔ یا پھر یوں تاویل کی جاتی ہے کہ : محض ذرا دیر کے لئے ذرا سی تفریح کے لئے ہے۔

اگر بچے حجاب و حیا کی حدود کی پابندی نہیں کرتے یا پھر نامحرموں کے ساتھ میل جول ، ہنسی مذاق ، دوستی کرتے پھرتے ہیں تو صفائی دی جاتی ہے کہ : وہ تو صرف دوستی ہے۔ ہمارے بچوں کا دل تو صاف ہے۔ پردہ تو دراصل دل کا ہوتا ہے اور وہی اہم ہے۔

ہمیں اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ یہ ایسا نہیں ہے کہ ہم نے جو کچھ بھی پڑھا ، دیکھا یا سنا ، وہ صرف اُسی محدود وقت کے لئے تھا اور بس ختم۔ ورنہ تو ہم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
حالانکہ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ : ہم جو کچھ پڑھتے ، دیکھتے یا سنتے ہیں وہ کہیں کھو نہیں جاتا بلکہ ہمارے ذہن کے لاشعور میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ اور پھر بعد میں جو کچھ معلومات ہم اپنے ذہن سے اخذ کرتے ہیں وہ "محفوظ معلومات" کسی نہ کسی طرح سے اظہار کی راہیں تلاش کرتی ہیں۔
اور یوں ہماری گفتگو ، ہمارے جذبات ، احساسات ، اعمال و معاملات ، غرض ہماری مکمل شخصیت میں ہماری ذہنیت کا ظہور ہوتا ہے۔
اور یوں وہ محاورہ صادق آتا ہے کہ جو بویا جائے وہی کاٹا بھی جائے گا !!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں