سِلّی اُردو -- Silly URDU - AndleebIndia.blogspot.com from Hyderabad India | Health, Beauty, Food recipe, Urdu Literature

2009-01-19

سِلّی اُردو -- Silly URDU

کاتب غوث صاحب ۔۔۔۔۔۔۔
ہاں ! ان کا فن کچھ ایسا تھا کہ بےاختیار ان کے ہاتھ چومنے کو دل چاہتا۔ ایسے لگے جیسے سفید کاغذ پر کسی نے کالے موتے بکھیر دئے ہیں۔ یا سنگِ مرمر پر سنگِ موسیٰ سے پچی کاری کی گئی ہے۔ یوں بھی محسوس ہو کہ ہاتھوں میں تاج محل کی دیوار کا ایک حصہ آ گیا ہے۔ جس پر آیتیں کندہ ہوں۔ خط کوفی ، رقاء ، ثلث ، نستعلیق ، سب پر پوری قدرت ، ایک بار قلم اٹھا تو دیکھنے والوں کو یوں معلوم ہوتا کہ جھرنا بہہ رہا ہے یا کمپیوٹر کے پردے پر حروف ابھر آئے ہیں۔

مجھے کاتب غوث صاحب کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔ کیونکہ میری ان سے ملاقات صرف اس وقت ہوئی تھی جب گھر میں شادی کا موقع آیا تھا۔ رقعہ لکھوانے پہنچا تھا ان کے پاس۔
لوگ کہتے ہیں کہ جب تک وہ خورشید پریس میں رہے ، ان کی مالی حیثیت قابلِ رشک رہی۔ تنخواہ کے علاوہ گھر میں رات کے بارہ ایک بجے تک کتابت کرتے رہتے تھے۔ یوں انہوں نے ایک مکان خریدا۔ دو بیٹیوں کی شادیاں کیں۔ بیٹے کو گریجویٹ بنایا۔ لیکن پریس کی ملازمت گئی تو ان کا گزارا صرف گھر پر آنے والے کاموں کی اجرت پر منحصر ہوا۔ پھر آسمان بھی تو رنگ بدلتا ہے۔
غیر محسوس طریقے سے اردو کا چلن کم ہوا۔ انگریزی رقعوں پر اکتفا ہونے لگا۔ اردو رقعوں میں خرچ بھی زیادہ آتا ہے۔ خطاطی اور بلاک پر سوا تا ڈیڑھ سو روپے اٹھ جاتے۔
ویسے آج کی نسل اردو رقعوں کو دیکھ کر ناک کان بھوں مونچھیں سب چڑھاتی ہے۔ کہتی ہے :
What Daddy‪?
Why Mummy‪?
Who knows this language nowadays‪?
Silly Urdu‪.

آسمان کے اس نئے رنگ نے کاتب غوث صاحب پر بھی اپنا اثر چھوڑا۔
کہاں وہ دن کہ نکاح کا رقعہ الگ ، ولیمہ کا الگ سے۔
چھوہاروں ، مصریوں کی تھیلی کے لئے الگ چھپائی۔
پھر تہنیتیں۔ بہن کی جانب سے ، چھوٹے بھائی کی طرف سے۔
ایک شادی ہوتی ، کاتب صاحب کو ڈھائی تین سو روپے مل جاتے۔ اب تو کوئی silly سا شخص اردو رقعہ چھپواتا ہے۔ صرف نکاح کا !

دلوں میں خلوص ہی باقی نہ رہا تو تہنیتیں کس جگر سے چھاپے کوئی ؟!!

***
حیدرآباد (دکن) کے افسانہ نگار شبیب احمد کاف (مرحوم) کے تحریر کردہ آخری افسانہ "کاتب صاحب" سے متاثرکن اقتباس

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں